انسانی رویوں اور عادات کے بارے میں سائنس دان مسلسل نئی معلومات حاصل کرتے رہتے ہیں۔ بظاہر معمولی نظر آنے والی عادتیں بھی بعض اوقات ایسے دلچسپ رازوں سے پردہ اٹھاتی ہیں جو انسانی فطرت کو بہتر طور پر سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جاپانی سائنس دانوں کی ایک تحقیق میں انسانوں کے چلنے کے انداز سے متعلق ایک ایسا ہی دلچسپ انکشاف سامنے آیا ہے۔
تحقیق کے مطابق اگر کسی شخص کو کھلے یا بند مقام پر کھڑے ہو کر آزادانہ طور پر چلنے کا کہا جائے تو زیادہ امکان یہی ہوتا ہے کہ وہ گھڑی کی سوئیوں کی حرکت کے برعکس سمت، یعنی کاؤنٹر کلاک وائز، چلنا شروع کرے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رجحان دائیں یا بائیں ہاتھ کے استعمال سے بھی متاثر نہیں ہوتا۔
تحقیق کیسے کی گئی؟
یہ تحقیق University of Tokyo کے سائنس دانوں نے کی۔ دراصل محققین کووڈ-19 کی وبا کے دوران سماجی دوری (سوشل ڈسٹنسنگ) سے متعلق انسانی رویوں کا جائزہ لے رہے تھے۔ ان کا مقصد یہ جاننا تھا کہ جب افراد ایک محدود جگہ میں ایک دوسرے سے فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے حرکت کرتے ہیں تو ان کا رویہ کیا ہوتا ہے۔
اس مقصد کے لیے مختلف گروپوں کو مخصوص مقامات پر چلنے کی ہدایت دی گئی اور ان کی حرکات کو ویڈیو کیمروں کے ذریعے ریکارڈ کیا گیا۔ بعد ازاں جب ان ویڈیوز کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا تو ایک غیر متوقع رجحان سامنے آیا۔
کاؤنٹر کلاک وائز چلنے کی حیران کن ترجیح
محققین کے مطابق 33 میں سے 32 تجرباتی مشاہدات میں شرکا نے گھڑی کی سوئیوں کی مخالف سمت میں چلنے کو ترجیح دی۔ یہ نتیجہ سائنس دانوں کے لیے حیران کن تھا کیونکہ تحقیق کا اصل مقصد اس رجحان کا جائزہ لینا نہیں تھا۔
تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر انسان فطری یا وجدانی طور پر اس سمت میں حرکت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رجحان صرف ایک ملک یا ثقافت تک محدود نہیں تھا بلکہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد میں بھی یکساں طور پر دیکھا گیا۔
کیا عمر یا جسمانی خصوصیات اس پر اثر انداز ہوتی ہیں؟
تحقیق کے دوران نوجوان افراد میں کچھ معمولی فرق ضرور دیکھا گیا، تاہم مجموعی طور پر رجحان ایک جیسا رہا۔ سائنس دانوں نے یہ بھی جانچنے کی کوشش کی کہ آیا غالب ہاتھ (رائٹ ہینڈڈ یا لیفٹ ہینڈڈ ہونا) یا غالب پیر اس رویے پر اثر انداز ہوتا ہے، مگر انہیں ایسا کوئی واضح تعلق نہیں ملا۔
محققین کے مطابق یہ رجحان زیادہ تر ایک انفرادی اور فطری رویے کی صورت میں سامنے آیا ہے، جس کی اصل وجہ اب بھی نامعلوم ہے۔
اس دریافت کی اہمیت کیا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ایک سادہ سا مشاہدہ معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے پیچھے موجود وجوہات کو سمجھنے سے انسانی دماغ، فیصلہ سازی اور اجتماعی رویوں کے بارے میں نئی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ایسی تحقیقات مستقبل میں شہری منصوبہ بندی، ہجوم کے انتظام، عوامی مقامات کے ڈیزائن اور ایمرجنسی انخلا کے نظام کو بہتر بنانے میں بھی مدد دے سکتی ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ وہ اب مزید مطالعات کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ آخر انسان قدرتی طور پر ایک مخصوص سمت میں چلنے کو کیوں ترجیح دیتے ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج معروف سائنسی جریدے Nature Communications میں شائع کیے گئے ہیں، جہاں اسے انسانی رویوں کے حوالے سے ایک اہم مشاہدہ قرار دیا جا رہا ہے۔
