واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ چین اور روس نے ایران کو ہتھیار فراہم نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، جبکہ ان کا کہنا ہے کہ ایسی کسی بھی مدد سے دونوں ممالک کے اپنے مفادات متاثر ہوں گے۔
ٹرمپ کے مطابق بیجنگ میں ہونے والی ملاقات کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے انہیں یقین دلایا کہ چین یا چینی کمپنیاں ایران کو ہتھیار فراہم یا فروخت نہیں کریں گی۔ امریکی صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو دیکھتے ہوئے وہ اس یقین دہانی پر اعتماد کرتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ روس ایران کو ہتھیار فروخت نہیں کرے گا۔ ٹرمپ کے مطابق پیوٹن کا مؤقف تھا کہ امریکا بھی یوکرین کو براہِ راست نہیں بلکہ نیٹو اتحادیوں کے ذریعے دفاعی سازوسامان فراہم کرتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ اگر مستقبل میں چین یا روس ایران کو ہتھیار فراہم کرتے ہیں تو یہ ان کے اپنے مفادات کے خلاف ہوگا اور اس سے انہیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز میں حملے کی صورت میں ایران کے پل اور پاور پلانٹس نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ کی نئی دھمکی
دوسری جانب ٹرمپ نے یورپی یونین کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف غیر منصفانہ کارروائیاں کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایپل، میٹا، ایمیزون اور گوگل پر اربوں ڈالر کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور خبردار کیا کہ اگر یہ اقدامات واپس نہ لیے گئے تو امریکا سیکشن 301 کے تحت یورپی یونین کے خلاف تجارتی تحقیقات اور ممکنہ ٹیرف عائد کرنے پر غور کرے گا۔
واضح رہے کہ چین اور روس کی جانب سے ٹرمپ کے ان دعوؤں پر اس وقت تک کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ یورپی یونین نے بھی ان بیانات پر فوری ردعمل جاری نہیں کیا۔
