ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک دھمکیوں، دباؤ اور معاشی ناکہ بندی کے ماحول میں کسی بھی قسم کے مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں امریکا کے ساتھ ہونے والی بات چیت نے اعتماد کو بحال کرنے کے بجائے مزید نقصان پہنچایا۔
ایرانی حکومت کے مطابق صدر پزشکیان نے شہباز شریف سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ گفتگو کے دوران ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک جارحانہ اقدامات ختم نہیں کیے جاتے، اس وقت تک اعتماد کی فضا قائم نہیں ہوسکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا واقعی مذاکرات کی بحالی چاہتا ہے تو اسے پہلے رکاوٹیں دور کرنا ہوں گی اور بحری ناکہ بندی جیسے اقدامات ختم کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق برابری اور احترام کی بنیاد پر ہی بامعنی مذاکرات ممکن ہو سکتے ہیں۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے جاری کوششوں پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی۔ شہباز شریف نے ایران کی جانب سے حالیہ سفارتی روابط اور مذاکراتی عمل میں شرکت کو سراہا، خاص طور پر اپریل میں اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتوں کا ذکر کیا۔
ٹرمپ کی ایران کو براہِ راست مذاکرات کی پیشکش، قیادت سے بات چیت پر آمادگی ظاہر
اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے مستقبل میں قریبی رابطوں اور مشاورت کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کی قیادت، بشمول وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور اسحاق ڈار کی امن کے لیے کوششوں کو سراہا اور دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
