امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی موجودہ قیادت سے براہِ راست معاملات طے کرنے کے لیے تیار ہیں اور ایران جب چاہے امریکا سے رابطہ کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات سے قطع نظر ہیں کہ ایران کو کون چلا رہا ہے، اصل مقصد بات چیت کے ذریعے پیش رفت حاصل کرنا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے نمائندوں کے دورہ پاکستان کی منسوخی کی وضاحت کی۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں اطلاع دی گئی تھی کہ ایرانی حکام سے ملاقات منگل کو ہوگی، جسے انہوں نے تاخیر قرار دیا اور کہا کہ طویل سفر کے بعد نمائندوں کے لیے یہ شیڈول مناسب نہیں تھا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ان کے نمائندے ایران کی اعلیٰ قیادت سے براہِ راست مذاکرات چاہتے تھے، تاہم ملاقاتوں کا انتظام دیگر افراد کے ساتھ کیا جا رہا تھا، جو ان کے نزدیک مؤثر پیش رفت کے لیے موزوں نہیں تھا۔
انہوں نے ایران کی اندرونی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں قیادت کے حوالے سے شدید اختلافات اور کشمکش پائی جاتی ہے۔ ان کے بقول مختلف گروہ اقتدار کے لیے ایک دوسرے کے مدِمقابل ہیں، جس سے فیصلہ سازی متاثر ہو رہی ہے۔
ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کے لیے کسی ڈیڈ لائن کی تردید کر دی
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا کو ایران کی جانب سے تجاویز پر مشتمل دستاویزات بھی موصول ہوئیں۔ ان کے مطابق جب انہوں نے اپنے نمائندوں کا دورہ منسوخ کیا تو فوری طور پر ایک نئی اور نسبتاً بہتر تجویز پیش کی گئی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران نے کچھ پیشکشیں ضرور کی ہیں، تاہم وہ امریکا کے لیے کافی نہیں۔ سیز فائر کے مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فی الحال اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
