پنجاب بار کونسل کی ہدایت، مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کے وکلا پر میڈیا گفتگو کی پابندی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب بار کونسل کی ڈسپلنری کمیٹی نے اداکارہ مومنہ اقبال اور رکنِ پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ سے متعلق زیرِ سماعت معاملے میں اہم ہدایت جاری کرتے ہوئے دونوں فریقین کے وکلا کو کیس کے بارے میں میڈیا پر بیان بازی سے روک دیا ہے۔

latest urdu news

یہ ہدایت وکلا کے لائسنس معطل کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران دی گئی۔ سماعت پنجاب بار کونسل کی چار رکنی ڈسپلنری کمیٹی نے چیئرمین غلام عباس چدھڑ کی سربراہی میں کی۔

کارروائی کے دوران ثاقب چدھڑ اپنے وکیل میاں علی اشفاق کے ہمراہ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ ثاقب چدھڑ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے وکیل نے میڈیا پر جو بھی گفتگو کی، وہ ان کی ہدایات کے مطابق کی گئی اور اس حوالے سے ان کے پاس شواہد بھی موجود ہیں۔

میاں علی اشفاق نے کمیٹی کو بتایا کہ انہوں نے صرف اپنے مؤکل کا مؤقف عوام کے سامنے رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مومنہ اقبال کی جانب سے سوشل میڈیا پر بعض پوسٹس شیئر کیے جانے کے بعد معاملہ قومی سائبر کرائم ادارے (NCCIA) تک پہنچا اور 21 مئی کو تحقیقات میں بھی شرکت کی گئی۔ ان کے مطابق میڈیا پر گفتگو کا آغاز دوسری جانب سے ہوا تھا، جس کے بعد انہوں نے جواب دینا ضروری سمجھا۔

ثاقب چدھڑ کا مومنہ اقبال کی بہن کے خلاف قانونی اقدام، 80 لاکھ روپے ہڑپ کرنے کا الزام

دوسری جانب مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال نے کمیٹی کے روبرو مؤقف اپنایا کہ وہ اپنی بہن کی حمایت میں کھڑی ہیں اور ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔

سماعت کے دوران چیئرمین کمیٹی غلام عباس چدھڑ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دونوں وکلا نے فریقین کے تنازع کو ذاتی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔ انہوں نے واضح ہدایت دی کہ آئندہ کیس سے وابستہ کوئی بھی وکیل میڈیا پر اس معاملے پر تبصرہ یا گفتگو نہیں کرے گا۔

بعد ازاں پنجاب بار کونسل کی ڈسپلنری کمیٹی نے مزید کارروائی کے لیے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter