روس نے ایران سے متعلق جاری کشیدگی پر اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں ثالث کا کردار ادا نہیں کر رہا، تاہم ضرورت پڑنے پر تعاون کے لیے تیار ہے۔
روسی صدارتی دفتر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ امید ہے مذاکراتی عمل جاری رہے گا، کیونکہ بات چیت ہی خطے اور عالمی معیشت کو ممکنہ منفی اثرات سے بچا سکتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سفارتی راستہ اختیار کرنا تمام فریقین کے مفاد میں ہے اور کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں۔
ایران کا سخت ردعمل: امریکا پر سفارتی عمل میں عدم سنجیدگی اور جارحیت کے الزامات
دوسری جانب چین نے بھی ایرانی کارگو جہاز کو تحویل میں لیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ تمام فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرنی چاہیے تاکہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔
عالمی سطح پر اس پیش رفت کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مختلف ممالک سفارتی حل پر زور دے رہے ہیں۔
