ایران کا سخت ردعمل: امریکا پر سفارتی عمل میں عدم سنجیدگی اور جارحیت کے الزامات

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن سفارتی عمل کو آگے بڑھانے میں سنجیدہ نہیں اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ڈیڈ لائنز یا الٹی میٹم کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

latest urdu news

امریکا پر جارحیت اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام

اسماعیل بقائی کے مطابق امریکا نے سمندری ناکہ بندی کرتے ہوئے ایرانی بحری جہاز پر حملہ کیا، جو ان کے بقول نہ صرف جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کے بھی منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے حالیہ اقدامات سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ مذاکراتی عمل کو سنجیدگی سے آگے نہیں بڑھا رہا، بلکہ اس کی پالیسیاں جارحانہ نوعیت اختیار کر چکی ہیں۔

مذاکرات اور ثالثی کا معاملہ

ایرانی ترجمان کے مطابق ایران نے پاکستانی ثالث کو واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ اس وقت امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران پہلے ہی اپنے مطالبات واضح کر چکا ہے اور وہ انہیں تبدیل نہیں کرے گا، جبکہ امریکا کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز غیر سنجیدہ اور غیر حقیقت پسندانہ ہیں۔

آبنائے ہرمز اور علاقائی صورتحال

اسماعیل بقائی نے دعویٰ کیا کہ موجودہ کشیدگی سے قبل آبنائے ہرمز محفوظ تھی، تاہم حالیہ حملوں اور اقدامات نے خطے میں صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت کی صورتحال میں بحری آمدورفت کو معمول پر لانا آسان نہیں رہا۔

پاکستان میں ایرانی سفیر کا سخت ردعمل: دباؤ اور دھمکیوں سے ایران کو جھکایا نہیں جا سکتا

ممکنہ جوابی کارروائی کی دھمکی

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے نئی جارحیت کی گئی تو ایران کی مسلح افواج اس کا بھرپور جواب دیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران نے ماضی میں بھی اپنے دفاع کا حق استعمال کیا ہے اور آئندہ بھی قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کرے گا۔

بین الاقوامی قانون اور جنگ بندی پر مؤقف

ایران کا مؤقف ہے کہ امریکی اقدامات نہ صرف جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی ہیں بلکہ عالمی قوانین کے بھی منافی ہیں۔ تہران کے مطابق ایسے اقدامات خطے میں امن کے بجائے مزید کشیدگی کو جنم دیتے ہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر سنگین مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ سفارتی عمل پر عدم اعتماد، مذاکرات کی معطلی اور جوابی کارروائی کی دھمکیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس تناظر میں خطے میں امن و استحکام کے امکانات مزید غیر یقینی ہو گئے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter