الزبتھ وارن کا ایران پر حملوں پر شدید ردعمل

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک سینیٹر الزبتھ وارن نے ایران کے خلاف حالیہ ممکنہ جنگ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیر قانونی جنگ جھوٹ اور من گھڑت جواز پر مبنی ہے۔ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کو ناقص اور غیرمنظم قرار دیا۔

latest urdu news

سینیٹ میں الزبتھ وارن کے خیالات

الزبتھ وارن نے کہا کہ کلاسیفائیڈ بریفنگ کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس ایران سے متعلق کوئی واضح اور مربوط منصوبہ نہیں ہے۔ ان کے بقول، "جتنا آپ سمجھ سکتے ہیں، اس سے زیادہ بری صورتحال ہے۔” انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ وہ موجودہ کشیدگی اور ممکنہ جنگ کی صورتحال پر پہلے سے زیادہ فکرمند ہو گئی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ جنگ جھوٹ پر مبنی ہے اور ایران کی جانب سے امریکا کو کوئی فوری خطرہ نہیں پہنچایا گیا۔ الزبتھ وارن نے مزید کہا کہ وہ صورتحال پر مشتعل ہیں اور اس جنگ میں ہلاک ہونے والے افراد کے بارے میں صدمے کا شکار ہیں، اسی لیے وہ ہر ممکن اقدام کریں گی تاکہ جنگ کو جلد ختم کیا جا سکے۔

چک شومر اور حکمت عملی کی کمی

امریکی سینیٹ میں اقلیتی رہنما چک شومر نے بھی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انٹیلی جنس کمیٹی کی بریفنگ کے بعد وہ پہلے سے زیادہ تشویش میں ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ مسلسل جنگ کے جواز کو بدل رہی ہے: کبھی "رجیم چینج”، کبھی "نیوکلیئر ہتھیار”، کبھی "میزائل دفاع”، کبھی اپنی دفاعی ضرورت اور کبھی جارحیت۔ شومر نے کہا کہ جواز کا بار بار بدلنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں۔

ممکنہ زمینی کارروائی

ادھر امریکی سینیٹر رچرڈ بلومینتھل (Richard Blumenthal) نے امکان ظاہر کیا ہے کہ امریکا اپنی زمینی فوج ممکنہ طور پر ایران بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

سابق نیٹو کمانڈر: “تیسری عالمی جنگ شروع ہو چکی ہے”

الزبتھ وارن اور دیگر ڈیموکریٹک سینیٹرز کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا میں ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کو لے کر سیاسی اور فوجی حلقوں میں شدید اختلافات موجود ہیں۔ ان کے بقول، بغیر منصوبہ بندی اور جواز کے کی جانے والی یہ جنگ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter