اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما Rana Sanaullah Khan نے کہا ہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آیا تھا کہ حلف نامے سے وہ شقیں نکالی جائیں جن میں کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا ذکر موجود ہے۔
انہوں نے سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آزاد کشمیر کی سیاسی اور انتظامی صورتحال پر تفصیلی بات کی اور حکومت کے مؤقف کو سامنے رکھا۔
ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور مذاکرات
Rana Sanaullah Khan کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کوئی سیاسی جماعت نہیں اور نہ ہی وہ انتخابی عمل میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کمیٹی 2023 میں سامنے آئی تھی اور اس نے ابتدا میں بجلی کے نرخوں اور گندم پر سبسڈی جیسے مطالبات پیش کیے تھے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ماضی میں ان کے بعض مطالبات تسلیم کرتے ہوئے مالی پیکیجز بھی دیے، جن میں اربوں روپے کی سبسڈی اور بجلی منصوبوں کے لیے فنڈز شامل تھے۔
معاہدے اور نئے مطالبات
رانا ثنااللہ کے مطابق حکومت نے حالیہ مذاکرات میں متعدد نکات پر ایکشن کمیٹی سے تحریری معاہدہ کیا، تاہم بعد میں ان کی جانب سے مطالبات کی فہرست میں اضافہ کر دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک اہم مطالبہ یہ بھی تھا کہ مہاجرین کی نشستیں ختم کی جائیں، جس پر حکومت نے مؤقف اپنایا کہ یہ معاملہ انتظامی دائرہ اختیار سے باہر ہے اور اسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
سیاسی اور آئینی پہلو
مشیر برائے سیاسی امور نے کہا کہ آئینی اور قانونی معاملات کو اسمبلی اور متعلقہ اداروں کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کی سپریم کورٹ نے بھی قرار دیا ہے کہ موجودہ اسمبلی بعض معاملات پر قانون سازی نہیں کر سکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ایگزیکٹو فیصلے کے ذریعے نشستیں ختم نہیں کی جا سکتیں۔
خواجہ سعد رفیق کا ن لیگ کو گلگت بلتستان میں اپوزیشن میں بیٹھنے کا مشورہ
کشیدگی اور سکیورٹی صورتحال
Rana Sanaullah Khan نے دعویٰ کیا کہ بعض عناصر کی جانب سے احتجاجی لائحہ عمل کے تحت سخت اقدامات اور ممکنہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق سکیورٹی ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
کشمیر پر ریاستی مؤقف
رانا ثنااللہ نے واضح کیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس کی آزادی کے لیے پاکستان نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کا اصولی مؤقف ہمیشہ سے کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق پر مبنی رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست ہر قیمت پر آزاد کشمیر کے استحکام اور تحفظ کو یقینی بنائے گی اور کسی بھی شرپسند کارروائی سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
گلگت بلتستان کا حوالہ
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں حالیہ انتخابات میں بڑی تعداد میں ووٹرز نے حصہ لیا اور انتخابی عمل پر عمومی طور پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
