امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس الہان عمر اور راشدہ طلیب کو امریکا سے نکالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سخت تنقید کی ہے، جس پر سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں دونوں اراکینِ کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے لکھا کہ اسٹیٹ آف دی یونین جیسے اہم موقع پر ان کا احتجاجی رویہ غیر سنجیدہ اور نامناسب تھا۔ ٹرمپ کے مطابق ان کا طرزِ عمل ملک کے مفاد میں نہیں اور ایسے سیاستدان امریکا کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
اپنی پوسٹ میں انہوں نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی سیاستدان ملک کے لیے فائدہ مند نہ ہو تو اسے واپس بھیج دینا چاہیے جہاں سے وہ آیا ہے۔ ان کے اس بیان پر سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ملا جلا ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ٹرمپ کے خطاب کے دوران کانگریس ارکان کا احتجاج
واضح رہے کہ صدر کے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران دونوں ڈیموکریٹ اراکین نے احتجاج کیا تھا۔ خطاب کے دوران انہوں نے نعرے لگائے اور صدر کی پالیسیوں پر تنقید کی۔ راشدہ طلیب اور الہان عمر نے خطاب کے دوران یہ مؤقف اختیار کیا کہ حکومتی فیصلوں سے امریکی شہری متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ الہان عمر نے صدر کو جھوٹا بھی قرار دیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے ایک بار پھر امریکا میں بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم کو نمایاں کر دیا ہے، جہاں حکومتی اور اپوزیشن رہنما ایک دوسرے پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔
