نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے معروف مشروب روح افزا کے حق میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے اسے ’فروٹ ڈرنک‘ کے زمرے میں شامل کر دیا، جس کے بعد اس پر زیادہ ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکے گا۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ صرف اس بنیاد پر کہ روح افزا کو ’شربت‘ کے طور پر مارکیٹ کیا جاتا ہے، اسے زیادہ ٹیکس والے زمرے میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ اس مشروب میں 10 فیصد پھلوں کا رس شامل ہے، جس میں 8 فیصد انناس اور 2 فیصد سنگترہ ہے، جبکہ باقی اجزاء میں چینی کا شربت اور جڑی بوٹیوں کے عرق شامل ہیں۔
یہ معاملہ بھارت میں ہمدرد (وقف) لیبارٹریز کی جانب سے دائر اپیل پر سامنے آیا تھا۔ قبل ازیں الہٰ آباد ہائی کورٹ اور ٹیکس حکام نے روح افزا کو ’غیر درجہ بند‘ شے قرار دیتے ہوئے اس پر 12.5 فیصد وی اے ٹی عائد کیا تھا۔
سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ روح افزا اتر پردیش ویلیو ایڈڈ ٹیکس ایکٹ کے تحت ’فروٹ ڈرنک پروسیسڈ فروٹ پروڈکٹ‘ کے زمرے میں آتا ہے، اور متعلقہ مدت کے دوران صرف 4 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔
بھارتی سپریم کورٹ نے سائن بورڈز پر اردو زبان کے خلاف درخواست مسترد کر دی
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ فوڈ سیفٹی قوانین کے تحت دی گئی درجہ بندی کو ٹیکس قوانین پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ روح افزا بنانے والی کمپنی کے لیے بڑا مالی ریلیف فراہم کرتا ہے اور اس کے بعد کمپنی پر زائد مالی بوجھ سے بچاؤ ممکن ہوگا۔
