امریکی حکومت نے خلائی مخلوق، یو ایف اوز اور نامعلوم فضائی مظاہر سے متعلق برسوں سے خفیہ رکھی گئی دستاویزات، تصاویر اور ویڈیوز جاری کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد دنیا بھر میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی جانب سے ان حساس فائلوں کو ڈی کلاسیفائی کرتے ہوئے عوامی رسائی کے لیے پیش کیا گیا۔ محکمہ دفاع کے مطابق جاری کی گئی تقریباً 170 فائلوں میں مختلف ادوار کی تصاویر، ویڈیوز اور سرکاری ریکارڈ شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ان فائلوں میں 1969 کے اپالو 12 مشن کی چند تصاویر بھی شامل ہیں، جن میں چاند کی سطح پر نامعلوم اشیاء یا مظاہر دیکھے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اسی طرح 1972 کے اپالو 17 مشن کے خلا بازوں کی گفتگو کے ٹرانسکرپٹس بھی منظر عام پر لائے گئے ہیں، جن میں انہوں نے چاند کے قریب عجیب اور غیر شناخت شدہ اجسام کا ذکر کیا۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ ان معلومات کو طویل عرصے تک خفیہ رکھنے سے مختلف قیاس آرائیاں جنم لیتی رہیں، اس لیے اب عوام کو حقیقت جاننے کا حق دیا جا رہا ہے۔
خلائی مخلوق سے ممکنہ رابطہ، پوپ کے خطاب کی تیاری کا دعویٰ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اقدام کو “شفافیت کی جانب بڑا قدم” قرار دیتے ہوئے سابق امریکی حکومتوں پر حقائق چھپانے کا الزام بھی عائد کیا۔
تاہم بعض ناقدین کا خیال ہے کہ یہ اقدام سیاسی مقاصد کے تحت کیا گیا ہے تاکہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں اور جیفری ایپسٹین کیس سے متعلق عوامی توجہ کسی اور جانب موڑی جا سکے۔
