امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیت تقریباً ختم ہو چکی ہے اور اب دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ تہران کی جانب سے کیا ردعمل سامنے آتا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی طرف سے جلد کسی ردعمل کی توقع کی جا رہی ہے، جبکہ خطے میں ممکنہ بڑے تنازع سے بچنے کے لیے سفارتی رابطے اور مذاکراتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
امریکی صدر نے روس اور یوکرین جنگ پر بھی اظہار خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تین روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا جا چکا ہے اور امید ہے کہ اس میں مزید توسیع ممکن ہو سکے گی۔ ٹرمپ نے خواہش ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان مستقل سیز فائر کی راہ ہموار ہو۔
ایران نے آبنائے ہرمز میں ٹرانزٹ فیس کے لیے نئی بحری اتھارٹی قائم کر دی
انہوں نے عراق کی سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی حمایت یافتہ قیادت حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ امریکا جرمنی اور پولینڈ سے اپنی مزید فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ کر رہا ہے۔
دوسری جانب عالمی سفارتی حلقے ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور جاری مذاکراتی عمل کو خطے کے امن کے لیے انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔
