ہوانا: کیوبا میں طویل عرصے سے جاری ایندھن کے بحران نے شہریوں کو متبادل ذرائع اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جہاں اب چین میں تیار کردہ الیکٹرک ٹرائی سائیکلز لاکھوں افراد کے لیے آمدورفت اور روزگار کا اہم ذریعہ بنتی جا رہی ہیں۔
متعدد شہریوں نے ان تین پہیوں والی برقی گاڑیوں پر شمسی پینل بھی نصب کر لیے ہیں، جس سے وہ بجلی کے کمزور نظام پر انحصار کیے بغیر سورج کی توانائی سے اپنی گاڑیاں چارج کر رہے ہیں۔ اس اقدام نے نہ صرف ایندھن بلکہ بجلی کی قلت کے اثرات بھی کسی حد تک کم کر دیے ہیں۔
ان الیکٹرک ٹرائی سائیکلز کی قیمت تقریباً 2 ہزار سے 4 ہزار امریکی ڈالر کے درمیان ہے۔ یہ گاڑیاں مسافروں کی آمدورفت کے ساتھ ساتھ سامان کی ترسیل میں بھی استعمال ہو رہی ہیں، جبکہ کئی ایسے بس روٹس پر بھی خدمات انجام دے رہی ہیں جہاں سرکاری ٹرانسپورٹ محدود ہو چکی ہے۔
زیادہ قیمت کے باعث ہر شہری کے لیے یہ گاڑیاں خریدنا آسان نہیں، تاہم بہت سے افراد نے اپنی پرانی پیٹرول گاڑیاں فروخت کرکے الیکٹرک ٹرائی سائیکلز خریدیں، جبکہ کچھ کو بیرونِ ملک مقیم رشتہ داروں نے مالی مدد فراہم کی۔ متعدد چھوٹے کاروباری افراد نے بھی انہیں روزگار کا ذریعہ بنا لیا ہے۔
آسٹریلیا میں بیٹری سبسڈی سے سولر توانائی کو فروغ، بجلی کے بلوں میں نمایاں کمی
ماہرین کے مطابق کیوبا میں ایندھن کی قلت حالیہ مہینوں میں مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ ملک اپنی ضرورت کا صرف تقریباً 40 فیصد ایندھن خود پیدا کرتا ہے، جبکہ بیرونی سپلائی میں کمی کے باعث مارچ کے آخر تک صرف ایک آئل ٹینکر کیوبا پہنچا، حالانکہ اس سے قبل اوسطاً ہر ماہ آٹھ ٹینکر آتے تھے۔ اس صورتحال نے متبادل توانائی کے ذرائع، خصوصاً شمسی توانائی سے چلنے والی ٹرانسپورٹ، کی اہمیت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
