گوجرانوالہ: ریجنل پولیس آفیسر خرم شہزاد حیدر وڑائچ کے احکامات پر خواتین اور بچوں کے تحفظ، بنیادی حقوق سے متعلق شعور اجاگر کرنے اور ہراسگی، تشدد و استحصال کی روک تھام کے لیے گوجرانوالہ ریجن میں Children and Women Safety Week کے تحت ہفتہ وار آگاہی مہم جاری ہے۔ مہم کے پہلے روز ریجن بھر میں 78 آگاہی ٹاکس اور 69 آگاہی واکس کا انعقاد کیا گیا۔
مختلف اضلاع میں آگاہی سرگرمیاں
پولیس کے مطابق مہم کا پہلا روز 14 ستمبر کو ریجن کے مختلف اضلاع میں بھرپور انداز میں منعقد کیا گیا۔ پولیس افسران کی نگرانی میں تعلیمی اداروں، عوامی مقامات اور مختلف کمیونٹی پلیٹ فارمز پر آگاہی پروگرامز اور واکس کا اہتمام کیا گیا۔
پہلے روز گوجرانوالہ اور وزیرآباد میں 24 ٹاکس اور 23 واکس، سیالکوٹ میں 7 ٹاکس اور 6 واکس، نارووال میں 16 ٹاکس اور 16 واکس جبکہ گجرات میں 6 ٹاکس اور 6 واکس کا انعقاد ہوا۔
اسی طرح حافظ آباد میں 7 آگاہی ٹاکس جبکہ منڈی بہاؤالدین میں 18 ٹاکس اور 18 واکس منعقد کی گئیں۔ ان سرگرمیوں میں طلبہ و طالبات سمیت شہریوں نے شرکت کی۔
خواتین اور بچوں کو تحفظ سے متعلق آگاہی
آگاہی پروگرامز کے دوران شرکاء کو خواتین اور بچوں کے بنیادی حقوق، تحفظِ اطفال، ہراسگی سے بچاؤ اور تشدد و استحصال کی روک تھام کے حوالے سے معلومات فراہم کی گئیں۔ شہریوں کو مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع دینے اور ضرورت پڑنے پر قانونی معاونت حاصل کرنے کے طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا گیا۔
بچوں کو خصوصی طور پر Good Touch اور Bad Touch میں فرق سمجھایا گیا اور بتایا گیا کہ کسی بھی نامناسب رویے یا صورتحال کا سامنا ہونے کی صورت میں قابلِ اعتماد بڑوں اور متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کیا جائے۔
گوجرانوالہ میں اوپن ڈور پالیسی جاری، ڈپٹی کمشنر نے شہریوں کے مسائل سنے
اسی طرح خواتین کو ہراسگی یا کسی ناخوشگوار صورتحال کی صورت میں خاموش رہنے کے بجائے پولیس سے بروقت مدد حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان کی روک تھام کی جا سکے۔
محفوظ معاشرے کے لیے آگاہی پر زور
ریجنل پولیس آفیسر خرم شہزاد حیدر وڑائچ نے کہا کہ خواتین اور بچوں کا تحفظ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پولیس شہریوں، بالخصوص خواتین اور بچوں کے تحفظ اور ان کے حقوق کے لیے ہر ممکن اقدامات کو یقینی بنا رہی ہے۔
انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ آگاہی مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے اور زیادہ سے زیادہ تعلیمی اداروں، عوامی مقامات اور معاشرے کے مختلف طبقات کو اس کا حصہ بنایا جائے۔
آر پی او نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور محفوظ و بااعتماد معاشرے کے قیام کے لیے آگاہی کے ساتھ ساتھ مؤثر اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
