جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سعودی عرب میں مکہ مکرمہ کے قریب مبینہ حوثی ڈرون حملے کے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ پر حملہ پورے عالم اسلام پر حملہ تصور ہوگا۔
مولانا فضل الرحمان نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب پر ہونے والے حملوں نے امریکا اور مغربی دنیا کے دوہرے رویے کو ایک بار پھر بے نقاب کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی عقیدت کا مرکز ہے۔
مکہ کے تحفظ کو اولین اہمیت دینے کا مطالبہ
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر مکہ مکرمہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو امت مسلمہ اسے اپنے خلاف حملہ تصور کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور حرم مکہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مسلم ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان مکہ مکرمہ کے تحفظ کے حوالے سے اپنی پالیسی واضح کرے اور موجودہ صورتحال میں اپنا مؤقف سامنے لائے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ حالات میں امت مسلمہ کے درمیان مضبوط اور مؤثر تعاون کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق مسلم ممالک کو سعودی عرب اور حرمین شریفین کے تحفظ کے معاملے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
سعودی عرب کے کئی شہروں پر حوثی ڈرون حملوں کا خدشہ،مکہ مکرمہ سمیت مختلف شہروں میں ہنگامی انتباہ جاری
مکہ کے قریب ڈرون واقعہ
سعودی حکام کے مطابق 15 ستمبر کو مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک ڈرون کو سعودی فضائی دفاع نے اس وقت روک کر تباہ کردیا جب وہ شہر کے ممنوعہ فضائی علاقے میں داخل ہونے سے پہلے ہی انٹرسیپٹ کیا گیا۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان نے اسے مکہ کو نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیا۔
تاہم حوثی حکام نے مکہ مکرمہ یا کسی دوسرے اسلامی مقدس مقام کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے اور سعودی دعوے کو مسترد کیا ہے۔
سعودی حکام نے واقعے کے بعد مکہ مکرمہ اور دیگر علاقوں میں سکیورٹی الرٹس بھی جاری کیے۔ سعودی اتحاد کے ترجمان کے مطابق دو مقدس مساجد اور زائرین کی سلامتی کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔
اسلامی ممالک سے مشترکہ کردار ادا کرنے کا مطالبہ
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مسلم ممالک کو اس نازک صورتحال میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کے کارکن سعودی عرب میں ہونے والے واقعات پر تشویش رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ مسلم ممالک باہمی تعاون کو مضبوط کریں اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات پر غور کریں۔
