برطانیہ کے وزیر ہمیش فاکنر نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے اس معاملے میں ایک اہم اور تعمیری کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں خطے میں امن کی کوششوں کو تقویت ملی ہے۔
ان کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششیں نہ صرف علاقائی سطح پر اہم ثابت ہوئیں بلکہ بین الاقوامی برادری نے بھی اس کردار کو مثبت انداز میں دیکھا۔ انہوں نے اسے “بڑی خوشخبری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں استحکام کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
پاکستان کے معاشی حالات پر تبصرہ
ہمیش فاکنر نے اپنے بیان میں پاکستان کی معیشت سے متعلق بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے بجٹ کے حوالے سے حالیہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے، تاہم ملک کے بعض حصوں میں عوام اب بھی معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی استحکام اور ترقیاتی پالیسیوں کے تسلسل سے ہی عوامی مسائل میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
ترقیاتی منصوبوں اور انفرااسٹرکچر کی تعریف
برطانوی وزیر نے پاکستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور انفرااسٹرکچر میں بہتری کو بھی سراہا۔ ان کے مطابق دورۂ پاکستان کے دوران انہوں نے مختلف علاقوں کا مشاہدہ کیا جہاں ترقیاتی کام واضح طور پر نظر آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان تبدیلیوں کو دیکھ کر انہیں خوشی اور حوصلہ ملا ہے کہ پاکستان درست سمت میں پیش رفت کر رہا ہے۔
امریکا ایران ڈیل پر اسرائیلی میڈیا کا سخت ردعمل، ٹرمپ پر بھی تنقید
پاکستان سے ذاتی وابستگی کا اظہار
ہمیش فاکنر نے اپنے بیان میں پاکستان کے بارے میں ذاتی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان کے دل میں بس گیا ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے ملک کے ایسے علاقوں کا سفر کیا جہاں اکثر برطانوی پاکستانی بھی نہیں جاتے۔
انہوں نے پاکستانی ثقافت، مہمان نوازی اور کھانوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے مختلف ذائقے اور پکوان انہیں بے حد پسند آئے۔
سفارتی تعلقات کی اہمیت
تجزیہ کاروں کے مطابق برطانوی وزیر کا یہ بیان پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعلقات میں مثبت پیش رفت کی علامت ہے۔ ایسے بیانات نہ صرف سفارتی روابط کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے کردار اور ساکھ کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری سفارتی کوششوں میں پاکستان کی شمولیت اسے ایک اہم علاقائی شراکت دار کے طور پر مزید نمایاں کر رہی ہے۔
