امریکا ایران ڈیل پر اسرائیلی میڈیا کا سخت ردعمل، ٹرمپ پر بھی تنقید

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ ڈیل اور جنگ بندی کے حوالے سے پیش رفت پر اسرائیلی میڈیا میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بعض اسرائیلی تجزیہ کاروں اور ٹی وی پریزنٹرز نے اس معاملے پر نہ صرف امریکا کی پالیسی پر تنقید کی ہے بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں بھی سخت تبصرے کیے ہیں۔

latest urdu news

اسرائیلی میڈیا کا متنازع تبصرہ

ایک اسرائیلی ٹی وی پروگرام کے دوران ایک پریزنٹر نے اپنے تبصرے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام کے ساتھ طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے “حسین” کا لفظ شامل کیا اور کہا کہ “یہ ڈونلڈ ٹرمپ نہیں بلکہ ڈونلڈ حسین ٹرمپ ہیں”۔ اس بیان نے سوشل میڈیا اور علاقائی میڈیا میں بحث کو مزید گرم کر دیا۔

اگرچہ یہ بیان ایک مخصوص تجزیاتی پروگرام کے دوران دیا گیا، تاہم اسے اسرائیلی میڈیا کے ایک حصے میں امریکا کی پالیسیوں سے بڑھتی ہوئی ناراضگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً ایران سے متعلق سفارتی اقدامات کے تناظر میں۔

اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی سفیر کا ردعمل

اسی دوران اقوام متحدہ میں اسرائیل کو بعض فہرستوں میں شامل کیے جانے سے متعلق بحث کے بعد اسرائیلی سفیر کے سخت ردعمل کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ اجلاس میں مسلح تنازعات اور بچوں کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ کے ساتھ تلخ جملوں کا تبادلہ رپورٹ ہوا، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔

یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسرائیل اور اقوام متحدہ کے بعض اداروں کے درمیان انسانی حقوق اور تنازعات سے متعلق معاملات پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔

ایران۔امریکا مذاکرات: وزیراعظم شہباز شریف اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے

لبنان میں کشیدگی اور علاقائی صورتحال

دوسری جانب لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملوں کے تسلسل نے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جنگ بندی یا سفارتی معاہدے کے امکانات پر بھی اثر ڈالا ہے۔

لبنانی صورتحال اور حزب اللہ سے جاری کشیدگی کے پس منظر میں اسرائیلی سیاسی حلقوں میں یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ امریکی قیادت اسرائیل پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ صورتحال مزید بگڑنے سے روکی جا سکے۔

علاقائی سیاست میں بڑھتی ہوئی پیچیدگی

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن اور سفارتی کوششوں کے لیے ایک نازک مرحلہ ہے۔ امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

اسی تناظر میں مختلف ممالک اور بین الاقوامی ادارے صورتحال کو قابو میں رکھنے اور سفارتی راستے کھلے رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، تاہم زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ اور غیر یقینی دکھائی دیتے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter