جس طرح ہر پاکستانی قومی ٹیم کی کارکردگی دیکھ کر افسردہ ہوتا ہے، میں بھی اتنا ہی افسردہ ہوتا ہوں: وسیم اکرم

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے پاکستان کرکٹ کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ پانچ چھ سال سے پاکستان کرکٹ کو اسی طرح دیکھ رہا ہوں، خطرے کی گھنٹی پہلے سے بج رہی تھی لیکن اس پر کام نہیں کیا گیا۔

latest urdu news

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ کوچ کوئی بھی آجائے، ہمارے پاس ٹیلنٹ تو یہی ہے۔ ہمارے پاس یا تو ایسا ٹیلنٹ ہونا چاہیے جیسا ہمارے ہمسایہ ملک میں 14 سالہ لڑکا سامنے آیا، اگر ہمارے ہاں ایسا ٹیلنٹ ہوتا تو پتا لگ گیا ہوتا۔

وسیم اکرم نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ کو 10 سال ہوچکے ہیں لیکن لیگ نے ایک بھی بیٹر پیدا نہیں کیا، البتہ فاسٹ باؤلرز ضرور سامنے آئے ہیں۔

سابق کپتان نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈومیسٹک کرکٹ کا جو نظام بنایا ہے اسے تین چار سال چلنے دینا چاہیے، صبر اور منصوبہ بندی کے علاوہ کوئی پلان نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح ہر پاکستانی قومی ٹیم کی کارکردگی دیکھ کر افسردہ ہوتا ہے، میں بھی اتنا ہی افسردہ ہوتا ہوں۔ وائٹ بال ٹیم ٹھیک ہے لیکن ریڈ بال کرکٹ میں ہمیں مشکلات کا سامنا ہے۔

وسیم اکرم نے کلب کرکٹ کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پی سی بی کراچی اور لاہور میں کلب کرکٹ پر دس دس کروڑ روپے خرچ کرے، کیونکہ نیا ٹیلنٹ کلب کرکٹ سے ہی سامنے آنا ہے۔

تیسرا ٹیسٹ، پاکستان نے انگلینڈ کو 130 رنز کا ہدف دیدیا

انہوں نے کہا کہ ٹیم میں تسلسل ہونا چاہیے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ لڑکے وہی ہیں، وہی آتے جاتے ہیں۔

قومی ٹیم کے فاسٹ باؤلرز سے متعلق وسیم اکرم نے کہا کہ ایک گیند 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے کرانا کوئی بڑی بات نہیں، اصل کمال پورا دن 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے باؤلنگ کرنا ہے۔

انہوں نے نوجوان فاسٹ باؤلرز کو مشورہ دیا کہ انہیں ابھی کھیلنے دیں، ان کی کارکردگی دیکھنے کے بعد ہی رائے قائم کی جائے۔

وسیم اکرم نے شاہین شاہ آفریدی کے حوالے سے کہا کہ وہ ایک تجربہ کار باؤلر ہیں، مجھے نہیں معلوم کہ ان کی رفتار کیوں کم ہوئی، تاہم انگلینڈ میں ایسے تجربہ کار باؤلر کی ضرورت ہوتی ہے۔

سابق کپتان نے کہا کہ انگلینڈ کے دورے کے لیے ایک ہی رفتار والے فاسٹ باؤلرز بھیجے گئے، ٹیم میں ایک آدھ تیز رفتار باؤلر بھی ہونا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر وہ ٹیم میں ہوتے تو عاقب جاوید کو ضرور شامل کرنے کی بات کرتے، کیونکہ انہوں نے حال ہی میں انگلینڈ میں اچھی باؤلنگ کی ہے۔

وسیم اکرم نے کہا کہ ہم بھی ایسی ہی کنڈیشنز میں کھیلتے رہے ہیں، ہمارے پاس باؤلنگ میں ورائٹی تھی، ہمارے تمام باؤلرز ایک جیسی رفتار کے نہیں تھے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter