سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں ایک یوٹیوبر کو پولیس افسر کے دفتر میں بال بنواتے دیکھا گیا، آئی جی خیبرپختونخوا نے واقعے کی انکوائری کا حکم دے دیا۔
پشاور: ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ہری پور کے دفتر میں ایک شہری کے بال بنوانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد خیبرپختونخوا پولیس کے اعلیٰ حکام نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔
وائرل ویڈیو میں ایک شخص کو ڈی پی او آفس کے اندر بیٹھ کر بال بنواتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر اس واقعے سے متعلق مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں، جس کے بعد پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی وضاحت بھی سامنے آئی ہے۔
ویڈیو میں نظر آنے والا شخص یوٹیوبر ہے
پولیس حکام کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والا شخص یوٹیوبر ہے، جس نے ریکارڈنگ سے قبل ڈی پی او ہری پور سے اپنے بال سیٹ کروانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یوٹیوبر کی درخواست پر ایک حجام کو ڈی پی او آفس بلایا گیا، جہاں اس نے مذکورہ شخص کے بال بنانا شروع کیے۔
تاہم پولیس کے مطابق جس وقت ویڈیو ریکارڈ کی گئی، ڈی پی او ہری پور خود دفتر میں موجود نہیں تھے۔
اس وضاحت کے باوجود ویڈیو کے سوشل میڈیا پر پھیلنے کے بعد واقعے نے توجہ حاصل کی اور معاملے کی باضابطہ جانچ کا فیصلہ کیا گیا۔
میر رضا کیس: غفلت برتنے پر ایس ایچ او اور ایس ڈی پی او معطل
آئی جی خیبرپختونخوا نے نوٹس لے لیا
واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے معاملے کا نوٹس لے لیا۔
پولیس حکام کے مطابق آئی جی نے آر پی او ہزارہ کو واقعے کی مکمل انکوائری کرنے اور اس حوالے سے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
انکوائری کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ ڈی پی او آفس میں حجام کو کس کی اجازت سے بلایا گیا، واقعے کے حالات کیا تھے اور دفتر کے سرکاری ماحول میں اس سرگرمی کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی۔
سوشل میڈیا پر ویڈیو کے بعد بحث
سرکاری دفاتر میں ہونے والی غیرمعمولی سرگرمیوں کی ویڈیوز جب سوشل میڈیا پر سامنے آتی ہیں تو وہ تیزی سے صارفین کی توجہ حاصل کرتی ہیں۔ ہری پور کے ڈی پی او آفس سے سامنے آنے والی یہ ویڈیو بھی اسی وجہ سے سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آگئی۔
تاہم پولیس حکام کی جانب سے ابتدائی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والا شخص یوٹیوبر تھا اور اس کی درخواست پر حجام دفتر پہنچا تھا، جبکہ ویڈیو ریکارڈ کیے جانے کے وقت ڈی پی او دفتر میں موجود نہیں تھے۔
اب آئی جی خیبرپختونخوا کی ہدایت پر ہونے والی انکوائری کے بعد ہی واقعے سے متعلق مزید حقائق سامنے آئیں گے۔ انکوائری رپورٹ میں ذمہ داری کا تعین اور واقعے کے بارے میں حتمی صورتحال واضح ہونے کی توقع ہے۔
