پاکستان میں تیار ہونے والی فیفا فٹبال خلا تک پہنچ گئی، ناسا نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر منفرد تجربہ کر لیا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان میں تیار کی جانے والی فیفا ورلڈ کپ 2026 کی جدید فٹبال نے ایک اور اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ عالمی کھیلوں کے میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے بعد یہ فٹبال اب خلا تک بھی پہنچ گئی، جہاں امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے اس کے ساتھ ایک منفرد سائنسی تجربہ انجام دیا۔

latest urdu news

ناسا کے خلابازوں نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کے لیے تیار کی گئی جدید فٹبال کا استعمال کرتے ہوئے مائیکرو گریویٹی، یعنی تقریباً بے وزنی کے ماحول میں اس کی حرکت اور توازن کا جائزہ لیا۔ اس تجربے نے کھیل اور سائنس کے امتزاج کی ایک دلچسپ مثال پیش کی ہے۔

خلائی اسٹیشن میں فٹبال پر سائنسی تحقیق

ناسا کے مطابق یہ تجربہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے مشہور کپولا (Cupola) ماڈیول میں کیا گیا، جو زمین کے خوبصورت مناظر اور سائنسی مشاہدات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس دوران فٹبال کو خلا کے کم کششِ ثقل والے ماحول میں آزادانہ طور پر تیرتے ہوئے دیکھا گیا۔

خلابازوں نے اس تجربے میں ایڈیڈاز کی تیار کردہ "ٹریونڈا” (Trionda) فٹبال استعمال کی، جو 2026 کے فیفا ورلڈ کپ کی سرکاری گیند ہے۔ سائنس دان یہ جاننا چاہتے تھے کہ فٹبال کا اندرونی توازن، وزن کی تقسیم اور ساخت مائیکرو گریویٹی میں اس کی حرکت پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے۔

مائیکرو گریویٹی میں فٹبال کا رویہ کیوں اہم ہے؟

عام طور پر زمین پر فٹبال کی حرکت کششِ ثقل، ہوا کی مزاحمت اور کھلاڑی کے کک لگانے کے انداز سے متاثر ہوتی ہے۔ تاہم خلا میں کششِ ثقل نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اشیا کا رویہ مختلف ہو جاتا ہے۔

ناسا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے تجربات نہ صرف کھیلوں کے سازوسامان کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں بلکہ خلا میں اجسام کی حرکت، توازن اور کنٹرول سے متعلق سائنسی معلومات میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔ ادارے کے مطابق اسی نوعیت کا ایک تجربہ 2019 میں بھی کیا گیا تھا، جس سے معلوم ہوا تھا کہ معمولی توازن کی تبدیلی بھی فٹبال کی حرکت کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتی ہے۔

امریکا میں دنیا کی سب سے بڑی فٹبال نصب، گینیز ورلڈ ریکارڈ قائم

ٹریونڈا نام کا پس منظر

فیفا کے مطابق "ٹریونڈا” نام ہسپانوی زبان سے لیا گیا ہے، جس کا مطلب "تین لہریں” ہے۔ یہ نام 2026 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والے تین ممالک، امریکا، کینیڈا اور میکسیکو، کی نمائندگی کرتا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی تین ممالک مشترکہ طور پر کر رہے ہیں، اور اسی مناسبت سے اس فٹبال کا نام بھی رکھا گیا ہے۔ ایڈیڈاز کی جانب سے ڈیزائن کی گئی یہ گیند جدید ٹیکنالوجی، بہتر ایروڈائنامکس اور اعلیٰ کارکردگی کی خصوصیات کی حامل ہے۔

پاکستانی صنعت کے لیے اعزاز

پاکستان، خصوصاً سیالکوٹ، کئی دہائیوں سے دنیا کے معروف کھیلوں کے سامان کی تیاری کا مرکز رہا ہے۔ فیفا ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والی متعدد سرکاری گیندیں بھی پاکستان میں تیار کی جا چکی ہیں۔ اب اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستانی مینوفیکچرنگ سے تیار کردہ جدید فٹبال کا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک پہنچنا ملکی اسپورٹس انڈسٹری کے لیے ایک منفرد اعزاز سمجھا جا رہا ہے۔

یہ واقعہ نہ صرف پاکستان کی صنعتی مہارت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ ملک میں تیار ہونے والی مصنوعات عالمی سطح پر کھیلوں سے لے کر سائنسی تحقیق تک مختلف شعبوں میں اپنی اہمیت منوا رہی ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter