ترسیلات زر کی لاگت میں معمولی کمی سے معیشت کو ایک ارب ڈالر اضافی مل سکتے ہیں: بلال بن ثاقب

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیر مملکت بلال بن ثاقب کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم پر اخراجات میں صرف 2 سے 3 فیصد کمی سے ملکی معیشت کو ایک ارب ڈالر اضافی حاصل ہوسکتے ہیں۔

latest urdu news

وزیر مملکت اور چیئرمین پاکستان ورچوئل اثاثہ جات اتھارٹی (پیوارا) بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ حکومت ترسیلات زر کی لاگت کم کرنے کے لیے ڈیجیٹل مالیاتی نظام کو بہتر بنانے اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر کام کر رہی ہے۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان ورچوئل اثاثہ جات اتھارٹی (PVARA) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان ترسیلات زر کے اخراجات کم کرنے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ پر کام کر رہے ہیں۔

خلیجی ممالک سے ترسیلات زر کا پائلٹ منصوبہ

بلال بن ثاقب کے مطابق خلیجی ممالک سے پاکستان رقوم بھیجنے کے لیے ایک پائلٹ منصوبے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ترسیلات زر کے عمل کو کم خرچ، مؤثر اور آسان بنانا ہے تاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اپنی رقوم وطن بھیجنے میں کم اخراجات برداشت کرنا پڑیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں بینکوں کو مشترکہ مالیاتی انفرااسٹرکچر کی تیاری، ڈیجیٹل اثاثوں کے تحفظ اور کسٹڈی سروسز سمیت مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔

پاکستان کو ریکارڈ ترسیلات زر موصول، وزیراعظم کا اظہار اطمینان

ڈیجیٹل مالیاتی نظام اور سائبر سکیورٹی

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل مالیاتی نظام کو محفوظ بنانے کے لیے بینکوں اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو سائبر سکیورٹی کے انتظامات مزید مضبوط کرنا ہوں گے۔

ان کے مطابق مالیاتی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور محفوظ ڈیجیٹل نظام کی تشکیل ترسیلات زر کے اخراجات کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

بلال بن ثاقب نے زور دیا کہ ترسیلات زر کی لاگت میں صرف 2 سے 3 فیصد کمی بھی ملکی معیشت کے لیے ایک ارب ڈالر اضافی آمدن کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مشترکہ کوششیں اور جدید مالیاتی سہولتوں کا فروغ اہم ہوگا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں