امریکا میں وسط مدتی انتخابات آج ہوں گے، جن میں سروے اور انتخابی جائزوں کے مطابق ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان میں برتری ملنے کا امکان ہے، جبکہ سینیٹ کی 7 اہم نشستوں پر سخت مقابلے کی توقع ہے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔ انتخابات میں ڈیموکریٹس کی ممکنہ کامیابی کے پیش نظر ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس میں اکثریت کھونے کی صورت میں حکومتی معاملات چلانے کے لیے متبادل حکمت عملی تیار کرلی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ڈیموکریٹس کانگریس میں کامیاب ہوگئے تو وہ خود کو ’’مسٹر ویٹو‘‘ بنا لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں وہ ویٹو کا اختیار استعمال کریں گے، تاہم بعد میں ممکنہ طور پر ڈیموکریٹس کے ساتھ معاہدے بھی ہوسکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق کانگریس کی منظوری کے بغیر حکومتی اقدامات کرنے کے امکانات کا قانونی جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے تجاویز بھی تیار کی جارہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امیگریشن، تجارتی محصولات، رہائش اور حکومتی اخراجات جیسے معاملات پر انتظامی احکامات جاری کیے جاسکتے ہیں۔
کیلیفورنیا میں ووٹوں کی گنتی روکنے کی درخواست مسترد
انتخابات سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کو ایک قانونی محاذ پر دھچکا بھی لگا ہے۔ امریکی سپریم کورٹ نے کیلیفورنیا میں متنازع ووٹوں کی گنتی روکنے سے متعلق درخواست مسترد کردی۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ بعض ووٹرز امریکی شہری نہیں ہیں، تاہم عدالت نے ووٹوں کی گنتی روکنے کی درخواست منظور نہیں کی۔
پیشگی ووٹنگ میں 5 کروڑ سے زائد امریکیوں کی شرکت
وسط مدتی انتخابات سے پہلے پیشگی ووٹنگ میں بھی ریکارڈ قائم ہوا ہے۔ 5 کروڑ 13 لاکھ سے زائد امریکی شہری ڈاک کے ذریعے یا ذاتی طور پر پولنگ مراکز پر اپنا ووٹ ڈال چکے ہیں۔ یہ تعداد 2022 کے سابقہ ریکارڈ سے زیادہ ہے۔
فلوریڈا یونیورسٹی کی الیکشن لیب کے مطابق اگر اس مرتبہ ووٹر ٹرن آؤٹ 2022 کے برابر رہا تو 10 کروڑ سے زائد امریکی شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکتے ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کا مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران پر بڑے حملوں کا منصوبہ، امریکی اخبار کا دعویٰ
پیشگی ووٹنگ کے دستیاب اعداد و شمار میں ڈیموکریٹس کو مجموعی برتری حاصل ہے۔ شمالی کیرولائنا میں 10 لاکھ سے زائد ڈیموکریٹس جبکہ 6 لاکھ 79 ہزار ریپبلکنز ووٹ ڈال چکے ہیں۔ ٹیکساس میں 76 لاکھ، جنوبی کیرولائنا میں تقریباً 10 لاکھ اور جارجیا میں 28 لاکھ سے زائد شہری پیشگی ووٹنگ میں حصہ لے چکے ہیں۔
جارجیا میں پیشگی ووٹنگ کی شرح 2022 کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ رہی، جبکہ مین، کنساس اور مشی گن میں بھی پیشگی ووٹنگ میں 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کئی اہم ریاستوں میں ڈیموکریٹس کو برتری
امریکا کی 27 ریاستوں کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پیشگی ووٹ ڈالنے والوں میں 43.1 فیصد ڈیموکریٹس اور 31.8 فیصد ریپبلکنز شامل ہیں، جبکہ آزاد ووٹرز کا حصہ تقریباً 25 فیصد ہے۔
پنسلوانیا میں پیشگی ووٹ ڈالنے والوں میں ڈیموکریٹس کا تناسب 65 فیصد جبکہ ریپبلکنز کا 25 فیصد بتایا گیا ہے۔
روایتی طور پر ریپبلکنز کی حمایت رکھنے والی ریاستوں آئیووا، کنساس اور نیبراسکا میں بھی ڈیموکریٹس کی پیشگی ووٹنگ ریپبلکنز کے برابر یا اس سے زیادہ رہی ہے۔ تاہم فلوریڈا، مشی گن اور ٹیکساس میں ریپبلکنز کی پیشگی ووٹنگ میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
فلوریڈا میں ریپبلکنز کو ڈیموکریٹس پر 3 فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل ہے، جبکہ 2022 میں یہ فرق 6.4 فیصد پوائنٹس تھا۔ دوسری جانب مشی گن میں 30 فیصد رجسٹرڈ ریپبلکنز نے پیشگی ووٹ ڈالا، جبکہ ڈیموکریٹس میں یہ شرح 23 فیصد رہی۔
انتخابی جائزوں اور پیشگی ووٹنگ کے اعداد و شمار نے کانگریس کے کنٹرول کی دوڑ کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ اب نتائج سے واضح ہوگا کہ آیا ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان میں برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا ریپبلکنز کانگریس میں اپنی پوزیشن برقرار رکھتے ہیں۔
