پاکستان پوسٹ آفس میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات جاری، نیب نے 10 نومبر کو طلب کرلیا جبکہ ایف آئی اے بھی بیان ریکارڈ کرنے کے لیے نوٹس جاری کرچکا ہے۔
راولپنڈی: قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پاکستان پوسٹ آفس میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں اور مالی بے ضابطگیوں کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اور سابق وفاقی وزیر مواصلات اسعد محمود کو طلب کرلیا ہے۔
نیب راولپنڈی نے اسعد محمود کو 10 نومبر کو صبح 11 بجے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا ہے۔ ان کے دور وزارت، جو 2022 سے 2023 تک رہا، میں پاکستان پوسٹ آفس میں ہونے والی بھرتیوں اور مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
پاکستان پوسٹ آفس میں 4 ہزار سے زائد بھرتیوں کا معاملہ
نیب کے نوٹس کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے پاکستان پوسٹ آفس میں مجموعی طور پر 3,938 آسامیوں پر بھرتیوں کی اجازت دی تھی، تاہم مبینہ طور پر اس کے برعکس 4,252 افراد کو ملازمتیں فراہم کی گئیں۔
تحقیقاتی نوٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ کابینہ کمیٹی کی ہدایات کے برعکس 2,646 ایسی آسامیوں پر بھی بھرتیاں کی گئیں جنہیں پہلے ہی ختم کیا جاچکا تھا۔
نیب اس معاملے میں یہ بھی تحقیقات کر رہا ہے کہ منظور شدہ آسامیوں کی تعداد سے زیادہ افراد کو کس بنیاد پر ملازمتیں دی گئیں اور ختم شدہ آسامیوں پر تقرریوں کی اجازت کس نے دی۔
مستقل بھرتیوں اور دستاویزات پر بھی سوالات
نیب کے نوٹس میں بھرتیوں کے طریقہ کار سے متعلق بھی متعدد اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔
نوٹس کے مطابق کنٹریکٹ کی بنیاد پر بھرتیوں اور کسی ٹیسٹنگ ایجنسی کے ذریعے امیدواروں کے انتخاب کی سفارش کی گئی تھی، لیکن مبینہ طور پر اس کے بجائے مستقل بنیادوں پر تقرریاں کی گئیں۔
غیرقانونی بھرتیوں کا معاملہ: چیئرمین زرعی تحقیقی کونسل زیر حراست
اس کے علاوہ بھرتیوں کے عمل میں جعلی اور بوگس دستاویزات کے استعمال، مقررہ عمر کی حد سے زیادہ عمر رکھنے والے امیدواروں کو ملازمتیں دینے اور ڈومیسائل کوٹے کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی شامل ہیں۔
نیب ان تمام معاملات کی تحقیقات کے ذریعے مبینہ بے ضابطگیوں کی نوعیت اور ذمہ داران کا تعین کرنا چاہتا ہے۔
ایف آئی اے نے بھی اسعد محمود کو طلب کرلیا
دوسری جانب ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے بھی اسعد محمود کو طلبی کا نوٹس جاری کیا ہے۔
ایف آئی اے نے انہیں 2 نومبر کو صبح 11 بجے اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔ ادارہ پاکستان پوسٹ آفس میں بھرتیوں کے دوران مبینہ سنگین بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کر رہا ہے۔
اس طرح ایک ہی معاملے میں نیب اور ایف آئی اے دونوں الگ الگ قانونی و تحقیقاتی کارروائیاں کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اسعد محمود 2022 سے 2023 کے دوران وفاقی وزیر مواصلات کے عہدے پر فائز رہے تھے۔ تاہم، طلبی کے نوٹس اور تحقیقات میں سامنے آنے والے الزامات کو حتمی جرم یا ذمہ داری کا فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ معاملے کی اصل صورت حال تحقیقات اور متعلقہ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔
