ٹرمپ نے مڈٹرم انتخابات میں شکست تسلیم کرلی، ایران جنگ کو وجہ قرار دے دیا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے انتخابی نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے ایران جنگ کو بھی ایک اہم وجہ قرار دیا، تاہم دعویٰ کیا کہ اگر وہ خود بیلٹ پر ہوتے تو ریپبلکنز بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتے۔

latest urdu news

امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے، جن کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹ امیدواروں کو ریپبلکنز پر برتری حاصل ہے۔ ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں ڈیموکریٹس کی بہتر پوزیشن نے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سیاسی چیلنجز بڑھا دیے ہیں۔

انتخابی نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ نتائج تسلیم کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود انتخابی بیلٹ پر موجود نہیں تھے، اگر ایسا ہوتا تو ان کی جماعت بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرتی۔

ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادگی

صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور ممکن ہے کہ دونوں جماعتیں بعض معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔

انہوں نے امیگریشن کے معاملے پر ڈیموکریٹس کے ساتھ تعاون کا امکان بھی ظاہر کیا، تاہم ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ڈیموکریٹس کی جانب سے کوئی غیر مناسب قانون سازی یا تجاویز سامنے آئیں تو وہ انہیں ویٹو کردیں گے۔

ٹرمپ نے کابینہ میں تبدیلی کے امکان سے متعلق سوال پر کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ وہ اپنی کابینہ میں کوئی تبدیلی کریں گے۔

امریکی مڈٹرم انتخابات: ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کو برتری، ٹرمپ کو بڑا سیاسی دھچکا

ایران جنگ کو انتخابی نتائج کی وجہ قرار دے دیا

انتخابی نتائج کے تناظر میں ایران جنگ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ ٹرمپ نے ایران جنگ کو ریپبلکنز کی انتخابی کارکردگی پر اثر انداز ہونے والی وجوہات میں شامل قرار دیا۔

ان کے بیان کے مطابق خارجہ پالیسی اور جنگ سے متعلق معاملات نے انتخابی ماحول پر اثر ڈالا، تاہم انہوں نے یہ مؤقف بھی دہرایا کہ اگر وہ خود امیدوار ہوتے تو نتائج مختلف ہوتے۔

ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے ابتدائی نتائج

ابتدائی نتائج کے مطابق 435 رکنی امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کو 190 جبکہ ریپبلکنز کو 110 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔ ایوان کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے کسی بھی جماعت کو کم از کم 218 نشستیں درکار ہیں۔

دوسری جانب امریکی سینیٹ کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس کو 17 نشستوں پر برتری حاصل ہوئی، جس کے بعد ان کی مجموعی تعداد 51 ہوگئی ہے۔ ریپبلکنز کو 8 نشستوں پر برتری کے بعد 39 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

امریکی سینیٹ میں سادہ اکثریت کے لیے 100 میں سے 51 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس کی برتری کے باعث کانگریس میں طاقت کا توازن تبدیل ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، جس کے اثرات ٹرمپ انتظامیہ کی آئندہ قانون سازی اور پالیسیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں