پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ پارٹی کا سوشل میڈیا ملک سے باہر سے چلایا جارہا ہے، جس پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں۔ انہوں نے عمران خان سے ملاقات کے بغیر 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق کوئی فیصلہ کرنے سے بھی انکار کیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وہ ایک بار پھر عدالت سے انصاف لینے آئے ہیں، لیکن بنیادی حقوق کی آئینی ضمانت کے باوجود شہریوں کو ان حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے۔
علیمہ خان کے ڈرائیور کی گرفتاری پر تشویش
سلمان اکرم راجہ نے علیمہ خان کے ڈرائیور کی گرفتاری کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک غریب شخص بغیر کسی جرم کے جیل میں قید ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج انہیں یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے کہ اگر یہ عمارتیں اور قوانین مل کر بھی ایک قیدی تک رسائی نہیں دلا سکتے تو پھر ان کی افادیت کیا ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ آئین میں بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ آج وہ حقوق کہاں ہیں۔ ان کے بقول کالے قوانین کے تحت بے گناہ افراد کو بھی مجرم بنا دیا جاتا ہے۔
26ویں آئینی ترمیم پر تنقید
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ وہ عدالتوں میں اس لیے پیش ہوتے ہیں تاکہ قوم کو اس صورتحال کی طرف متوجہ کرتے رہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد تمام آزادیاں ختم ہوچکی ہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے پارٹی کے ممکنہ مؤقف پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کے بغیر اس معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔
بیرون ملک سے چلنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مؤقف
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل نے پارٹی کے سوشل میڈیا سے متعلق کہا کہ یہ ملک سے باہر ہے اور ان کا اس پر کوئی کنٹرول نہیں۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا سے منسلک افراد کے ساتھ ان کا رابطہ بھی نہیں ہے۔
سلمان اکرم راجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پارٹی کے سیاسی مؤقف، سوشل میڈیا سرگرمیوں اور قیادت سے رابطوں کے معاملات زیر بحث ہیں۔
