پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے 1.3 ارب ڈالر کی مالی معاونت موصول ہو گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ رقم ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (EFF) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (RSF) پروگرام کے تحت منتقل کی گئی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے 8 مئی کو تیسرے جائزے کی منظوری دیتے ہوئے پاکستان کے لیے اس قسط کی ادائیگی کی اجازت دی تھی۔ موصول ہونے والی رقم مجموعی طور پر 914 ملین اسپیشل ڈرائنگ رائٹس (SDRs) پر مشتمل ہے۔
مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ یہ فنڈز براہِ راست پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں شامل کیے جائیں گے اور ان کا اثر 15 مئی 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے ذخائر کے اعداد و شمار میں نظر آئے گا۔ حکام کے مطابق اس رقم سے ملک کے غیر ملکی زرِمبادلہ ذخائر کو سہارا ملے گا اور مالی استحکام میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
پاکستان کو توانائی قیمتیں لاگت کے مطابق رکھنے کا مشورہ، آئی ایم ایف کا اصلاحات پر زور
یاد رہے کہ گزشتہ جمعے کو واشنگٹن ڈی سی میں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں پاکستان کے لیے EFF پروگرام کے تحت ایک ارب ڈالر کی چوتھی قسط اور RSF کے تحت 20 کروڑ ڈالر کی دوسری قسط کی منظوری پر غور کیا گیا تھا۔
آئی ایم ایف نے قسط کی منظوری کے ساتھ پاکستان پر یہ شرط بھی برقرار رکھی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کی قیمتوں کو عالمی اور مقامی لاگت کے مطابق رکھا جائے۔ ساتھ ہی ادارے نے اس بات پر زور دیا کہ مہنگائی کے دباؤ کے دوران کم آمدنی والے صارفین کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے۔
