قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان Shan Masood نے بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں شکست پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چائے کے وقفے تک پاکستان میچ میں مضبوط پوزیشن میں تھا، تاہم بعد میں صورتحال ہاتھ سے نکل گئی۔
ڈھاکا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شان مسعود نے کہا کہ جب بھی ٹیم میچ ہارتی ہے تو جذباتی دباؤ بڑھ جاتا ہے اور اس شکست پر بھی شدید مایوسی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی ایک کھلاڑی پر ذمہ داری نہیں ڈالیں گے بلکہ بطور کپتان ناکامی کی ذمہ داری خود قبول کرتے ہیں۔
قومی کپتان کے مطابق پاکستان کو امید تھی کہ سیٹ بیٹرز لمبی اننگز کھیل کر میچ کو ڈرا کی جانب لے جائیں گے، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مڈل آرڈر زیادہ دیر وکٹ پر ٹھہرتا تو ٹیم بہتر پوزیشن میں آ سکتی تھی۔
شان مسعود نے نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اذان اویس اور عبداللّٰہ فضل نے دباؤ میں اچھی بیٹنگ کی۔ انہوں نے بتایا کہ عبداللّٰہ فضل کو میچ سے قبل ٹریننگ کے دوران سر پر گیند لگی تھی، اس کے باوجود انہوں نے حوصلے کے ساتھ میدان میں عمدہ کھیل پیش کیا۔
ٹیسٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود کے لیے ایک ساتھ دو خوشخبریاں
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل وقفوں کی وجہ سے کھلاڑیوں کیلئے ردھم برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے، تاہم جدید کرکٹ میں ہر پلیئر کو مختلف کنڈیشنز میں خود کو ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے۔ کپتان نے یقین دلایا کہ ٹیم اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے دوسرے ٹیسٹ میں بہتر کارکردگی دکھانے کی کوشش کرے گی۔
