پاکستان میں موبائل فونز کی درآمدات میں بڑا اضافہ، 9 ماہ میں 406 ارب روپے سے تجاوز

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان میں موبائل فونز کی درآمدات میں جاری مالی سال کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ادارہ شماریات کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 سے مارچ 2026 تک پاکستان نے 406 ارب 38 کروڑ روپے مالیت کے موبائل فونز درآمد کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں واضح اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔

latest urdu news

درآمدات میں مجموعی اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 9 ماہ کے دوران موبائل فونز کی درآمدات میں 29.15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ مالی سال اسی مدت میں یہ درآمدات 314 ارب 65 کروڑ روپے تھیں، جو اس سال بڑھ کر 406 ارب روپے سے تجاوز کر گئی ہیں۔

یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں اسمارٹ فونز کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے، چاہے وہ ذاتی استعمال ہو، آن لائن کاروبار ہو یا تعلیمی اور ڈیجیٹل سرگرمیاں۔

ماہانہ اور سالانہ رجحانات

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ 2026 میں سالانہ بنیادوں پر موبائل فونز کی درآمدات میں 14.28 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ تاہم ماہانہ بنیادوں پر اسی مہینے میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جو 4.26 فیصد تھی۔

مارچ 2026 میں پاکستان نے 41 ارب 70 کروڑ روپے کے موبائل فونز درآمد کیے، جبکہ فروری 2026 میں یہ حجم 43 ارب 56 کروڑ روپے تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماہانہ بنیادوں پر معمولی اتار چڑھاؤ موجود ہے، لیکن مجموعی رجحان مثبت ہی رہا ہے۔

درآمدات میں مسلسل اضافہ کیوں؟

ماہرین کے مطابق پاکستان میں موبائل فونز کی درآمدات میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں۔ ان میں بڑھتا ہوا ڈیجیٹل استعمال، آن لائن تعلیم، فری لانسنگ، اور ای کامرس کا پھیلاؤ شامل ہے۔ اس کے علاوہ سستی چینی اور مڈ رینج اسمارٹ فونز کی دستیابی نے بھی طلب میں اضافہ کیا ہے۔

مزید یہ کہ پاکستان میں بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو اسمارٹ فونز کو نہ صرف رابطے بلکہ روزگار اور تفریح کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔

معیشت پر اثرات

اگرچہ درآمدات میں اضافہ صارفین کی بڑھتی ہوئی طلب کو ظاہر کرتا ہے، لیکن دوسری جانب یہ تجارتی خسارے پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ زیادہ درآمدات کا مطلب ہے کہ زرمبادلہ پر دباؤ بڑھتا ہے، جسے معاشی ماہرین ایک اہم چیلنج کے طور پر دیکھتے ہیں۔

مجموعی طور پر موبائل فونز کی درآمدات میں اضافہ پاکستان میں ڈیجیٹل رجحانات اور ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس رجحان کو مقامی موبائل مینوفیکچرنگ اور اسمبلنگ انڈسٹری کے فروغ کے ساتھ متوازن کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معیشت پر دباؤ کم کیا جا سکے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter