جھنگ: طالبہ ایشال فاطمہ کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں واقعے کی مکمل چھان بین کے لیے 8 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) قائم کر دی گئی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق جے آئی ٹی کی سربراہی ایس پی انویسٹی گیشن کریں گے، جبکہ ٹیم مختلف پہلوؤں سے مقدمے کی تفتیش کرکے ذمہ داران کا تعین کرے گی۔
یاد رہے کہ چند روز قبل مبینہ طور پر ملزمان متاثرہ طالبہ کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کرنے کے بعد موقع سے فرار ہوگئے تھے۔ بعد ازاں واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظرعام پر آنے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے چار ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
جھنگ واقعہ: 18 سالہ لڑکی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری، تشدد اور زیادتی کے شواہد نہ مل سکے
تحقیقات میں پیش رفت کے بعد گزشتہ روز مقدمے میں قتل کی دفعہ 302 بھی شامل کر دی گئی تھی، جبکہ جے آئی ٹی کو شواہد اکٹھے کرنے اور واقعے کی مکمل رپورٹ مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
