اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے آمدن حاصل کرنے والے افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے اہم اقدام تجویز کر دیا ہے۔ نئے مالی سال کے فنانس بل میں آن لائن کمائی پر ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی شق شامل کی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس میں نئے سیکشن 154B کے اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، ایکس اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پر ٹیکس کٹوتی کی جائے گی۔
مجوزہ قانون کے تحت تمام بینکوں اور نان بینکنگ مالیاتی اداروں کو پابند کیا جائے گا کہ سوشل میڈیا یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے موصول ہونے والی رقم اکاؤنٹ میں منتقل ہوتے ہی مقررہ ٹیکس منہا کریں۔ یہ اقدام ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹرز، فری لانسرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر بھی لاگو ہوگا۔
بجٹ تجاویز میں یہ بھی شامل ہے کہ بیرون ملک سے بینکنگ چینلز، آن لائن پیمنٹ سروسز اور ڈیجیٹل مالیاتی پلیٹ فارمز کے ذریعے آنے والی متعلقہ رقوم پر بھی ٹیکس کٹوتی کی جائے گی۔
نئے مالی سال میں دفاعی اخراجات بڑھانے کی تجویز، بجٹ 3 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا
دستاویزات کے مطابق پاکستان میں مقیم افراد کے لیے یہ ودہولڈنگ ٹیکس کم از کم ٹیکس تصور ہوگا، جبکہ غیر مقیم پاکستانیوں اور بیرون ملک رہائش پذیر افراد کے لیے اسے حتمی ٹیکس کی حیثیت حاصل ہوگی۔
حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون کی منظوری کے بعد اس پر عملدرآمد، نگرانی اور رپورٹنگ کے لیے تفصیلی قواعد و ضوابط جاری کیے جائیں گے۔
