کے پی حکومت کا وفاقی گرانٹ کو عمران خان سے ملاقات سے مشروط کرنے کا فیصلہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

خیبر پختونخوا حکومت نے وفاقی گرانٹس کے اجرا کو پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے ملاقات سے مشروط کر دیا ہے، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ یہ معاملہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس اور مختلف ٹی وی پروگراموں میں زیر بحث آیا، جہاں حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے اپنے مؤقف پیش کیے۔

latest urdu news

خیبر پختونخوا حکومت کا مؤقف

وزیراطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں کہا کہ جب تک بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہیں کرائی جاتی، صوبائی حکومت وفاقی کٹوتیوں یا گرانٹس کے حوالے سے کسی بھی فیصلے کی حمایت نہیں کرے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے عمران خان کی ان کی فیملی سے ملاقات نہیں کرائی گئی، جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ملاقات بھی تاحال ممکن نہیں بنائی گئی، جو ان کے مطابق ایک سنجیدہ انتظامی اور سیاسی مسئلہ ہے۔

مزمل اسلم کی وضاحت

مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کے اجلاس میں صوبے کی جانب سے وفاق کو گرانٹس دینے سے متعلق کوئی باقاعدہ کمٹمنٹ نہیں کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اجلاس سے پہلے جو گفتگو ہوئی وہ غیر رسمی نوعیت کی تھی، جبکہ باضابطہ طور پر ایسی کسی مالی ذمہ داری کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔

مزمل اسلم نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بغیر وفاق کو مالی وسائل فراہم کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے فیصلے عمران خان سے مشاورت کے بعد کیے گئے تھے۔

مسلح افواج اور عدلیہ پر تنقید سے متعلق بحث، قومی اسمبلی میں نکتہ نظر کا تبادلہ

اپوزیشن کا ردعمل

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح طور پر بریفنگ دی تھی کہ تمام صوبے اسٹریٹجک مقاصد کے لیے وفاق کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہیں۔

ان کے مطابق اجلاس میں اس وقت کے خیبر پختونخوا کے نمائندے، بشمول وزیراعلیٰ، بھی موجود تھے، اور وہاں کسی قسم کے اختلاف یا شرط کا اظہار نہیں کیا گیا تھا۔

سیاسی اور انتظامی تناظر

یہ صورتحال ایک بار پھر وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان مالیاتی اور سیاسی تعلقات پر سوالات اٹھا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق گرانٹس اور مالی تعاون کے معاملات عموماً آئینی اور ادارہ جاتی طریقہ کار کے تحت طے کیے جاتے ہیں، جبکہ سیاسی شرائط اس عمل کو پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس نوعیت کے اختلافات بڑھتے ہیں تو اس کا اثر نہ صرف وفاقی تعلقات بلکہ بجٹ کے نفاذ اور ترقیاتی منصوبوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام فریقین مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کریں تاکہ مالیاتی استحکام اور انتظامی تسلسل برقرار رہ سکے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter