مسلح افواج اور عدلیہ پر تنقید سے متعلق بحث، قومی اسمبلی میں نکتہ نظر کا تبادلہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران مسلح افواج اور عدلیہ سے متعلق تنقید اور پارلیمانی تقاریر کی نشریات کے معاملے پر اہم بحث سامنے آئی۔ اجلاس میں مختلف اراکین نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے ایوان کے اندر اور میڈیا پر پیش کی جانے والی تقاریر سے متعلق اپنے تحفظات اور مؤقف پیش کیے۔

latest urdu news

علی محمد خان کا مؤقف

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج اور عدلیہ جیسے ریاستی اداروں پر غیر ضروری یا سخت تنقید سے گریز کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ان اداروں کا احترام ریاستی استحکام کے لیے ضروری ہے۔

اسی دوران انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنماؤں کی تقاریر کو مکمل طور پر نشر نہیں کیا جاتا، جسے ان کے مطابق ختم ہونا چاہیے تاکہ عوام کو ایوان کی کارروائی کا مکمل اور شفاف علم ہو سکے۔

اسپیکر قومی اسمبلی کا ردعمل

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے علی محمد خان کے مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایوان کی کارروائی پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہے اور تمام تقاریر کو اصولوں کے مطابق نشر کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نشریات کے معاملے میں کوئی رکاوٹ موجود نہیں۔

اسپیکر نے یہ بھی وضاحت کی کہ بعض اوقات قومی سلامتی سے متعلق حساس معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاط برتی جاتی ہے، تاکہ ادارہ جاتی اور ریاستی مفادات متاثر نہ ہوں۔

قومی اسمبلی کا عالمی سفارتکاری میں پاکستان کے کردار کو خراجِ تحسین، متفقہ قرارداد منظور

بیرسٹر گوہر کی رائے

اسی بحث کے دوران بیرسٹر گوہر نے بھی ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تقاریر کو بعض اوقات مکمل طور پر نشر نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگرچہ ضروری سمجھا جائے تو بعد میں ترمیم یا ایڈٹ شدہ صورت میں تقاریر نشر کی جا سکتی ہیں، لیکن انہیں مکمل طور پر عوام تک پہنچنا چاہیے۔

اس پر اسپیکر نے دوبارہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ نشریاتی عمل میں کسی قسم کی غیر ضروری پابندی نہیں لگائی جاتی، البتہ بعض اوقات سکیورٹی اور ادارہ جاتی حساسیت کے باعث احتیاطی اقدامات کیے جاتے ہیں۔

پارلیمانی شفافیت پر بحث

یہ گفتگو ایک بار پھر پارلیمانی شفافیت، اظہارِ رائے کی آزادی اور ریاستی اداروں کے احترام کے درمیان توازن کے موضوع کو سامنے لے آئی ہے۔ ماہرین کے مطابق جمہوری نظام میں پارلیمان بنیادی ادارہ ہے جہاں مختلف آراء کا اظہار ہوتا ہے، تاہم اس میں ریاستی مفاد اور ادارہ جاتی حساسیت کو بھی مدنظر رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

اس بحث نے یہ بھی واضح کیا کہ پارلیمانی کارروائی کی نشریات اور ان کی پالیسیوں پر سیاسی حلقوں میں مختلف آراء موجود ہیں، جو مستقبل میں مزید پالیسی مباحث کا باعث بن سکتی ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter