وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں بعض حلقوں میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی حمایت کی، تاہم اس حوالے سے متعلقہ جماعتوں کی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
آزاد کشمیر انتخابات پر خواجہ آصف کا مؤقف
سیالکوٹ میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ وہ گزشتہ 55 برس سے آزاد کشمیر کے انتخابات کا مشاہدہ کرتے آ رہے ہیں اور اس بار بھی انتخابی سرگرمیوں کو قریب سے دیکھا۔
انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ شہری علاقوں میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ نسبتاً بہتر رہا اور ان کے مطابق شہر میں ووٹنگ کی شرح 45 فیصد سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ خواجہ آصف نے اس کا کریڈٹ اپنی جماعت کی انتخابی مہم اور کارکنوں کی محنت کو دیا۔
پی ٹی آئی کی حمایت کا دعویٰ
خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ آزاد کشمیر کے بعض انتخابی حلقوں میں پاکستان تحریک انصاف نے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی حمایت کی۔
انہوں نے کہا کہ بعض مقامات پر انتخابی صورتحال سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ کوششیں جاری ہیں۔ تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی مخصوص شواہد یا تفصیلات پیش نہیں کیں۔
واضح رہے کہ اس دعوے پر نہ تو پاکستان تحریک انصاف اور نہ ہی پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے۔
پیپلز پارٹی سے متعلق تبصرہ
وزیر دفاع نے گفتگو کے دوران سیالکوٹ میں پیپلز پارٹی کی سیاسی پوزیشن پر بھی تبصرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے سیالکوٹ سے آخری انتخاب 1970 میں جیتا تھا اور ان کے بقول شہر میں جماعت کی عوامی مقبولیت وقت کے ساتھ کم ہو چکی ہے۔
یہ بیان خواجہ آصف کا سیاسی تجزیہ ہے، جبکہ مختلف جماعتیں اپنے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کے حوالے سے الگ مؤقف رکھتی ہیں۔
پی ٹی آئی کے بائیکاٹ کا پس منظر
یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے حالیہ انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جماعت کی جانب سے انتخابی عمل سے متعلق مختلف تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، جس کی بنیاد پر انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔
دوسری جانب، مختلف سیاسی جماعتیں انتخابات کے نتائج اور انتخابی عمل کے حوالے سے اپنے اپنے مؤقف پیش کر رہی ہیں۔ بعض جماعتوں نے انتخابی شفافیت پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ دیگر نے انتخابی نتائج کو عوامی رائے کا اظہار قرار دیا ہے۔
انتخابی عمل پر مختلف مؤقف
آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد سیاسی بیانات اور دعووں کا سلسلہ جاری ہے۔ مختلف جماعتیں انتخابی نتائج، ووٹر ٹرن آؤٹ اور انتخابی اتحادوں سے متعلق اپنے اپنے مؤقف سامنے لا رہی ہیں۔ ایسے دعووں کی حتمی تصدیق متعلقہ شواہد اور سیاسی جماعتوں کے سرکاری ردعمل کی روشنی میں ہی ممکن ہوگی۔
