چین کے ماہرین نے ایک ایسی خصوصی پینٹ کوٹنگ تیار کی ہے جو شدید گرمی میں عمارتوں اور دیگر ڈھانچوں کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو روایتی ایئر کنڈیشننگ کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ بجلی کی کھپت کم کرنے والی ایک ممکنہ ٹیکنالوجی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کوٹنگ کی خاصیت یہ ہے کہ یہ ریڈی ایٹیو کولنگ کے اصول کے تحت کام کرتی ہے اور اسے ٹھنڈک پیدا کرنے کے لیے براہ راست بجلی یا روایتی کولنگ ایجنٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
پینٹ سورج کی حرارت کیسے کم کرتا ہے؟
اس خصوصی کوٹنگ میں ریڈی ایٹیو کولنگ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ اس طریقے میں کسی سطح پر پڑنے والی شمسی توانائی کے ایک بڑے حصے کو واپس منعکس کیا جاتا ہے، جبکہ سطح اپنی حرارت مخصوص طول موج کی انفراریڈ شعاعوں کی صورت میں خارج بھی کر سکتی ہے۔
نتیجتاً عمارت کی چھت یا بیرونی سطح سورج سے نسبتاً کم حرارت جذب کرتی ہے، جس سے اندرونی حصے کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اسی وجہ سے اس ٹیکنالوجی کو گرم علاقوں میں عمارتوں کی کولنگ کے لیے توانائی کی بچت کا ممکنہ ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔
ہینان میں 6 ماہ تک حقیقی ماحول میں آزمائش
رپورٹ کے مطابق اس نئی کوٹنگ کی حقیقی دنیا میں 6 ماہ تک آزمائش چین کے صوبہ ہینان میں ایک فیکٹری میں کی گئی۔ وہاں عمارت کے اندر درجہ حرارت کم رکھنے کے لیے روایتی طور پر واٹر اسپرنکلر سسٹم استعمال کیے جاتے تھے۔
آزمائش کے دوران نئی کوٹنگ نے عمارت کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد فراہم کی، جس کے لیے روایتی کولنگ طریقے کی طرح مسلسل توانائی استعمال کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس کوٹنگ کے استعمال سے شدید گرمی کے دوران بھی اندرونی درجہ حرارت کو نسبتاً محفوظ سطح پر برقرار رکھنے میں مدد ملی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موسم گرما میں یہ کوٹنگ اندرونی درجہ حرارت کو 25 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم، حقیقی نتائج عمارت کی ساخت، موسم، دھوپ کی شدت اور دیگر ماحولیاتی عوامل کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔
چین میں ٹیسلا سمیت 9 کمپنیوں کی 43 لاکھ گاڑیاں واپس منگوا لی گئیں
گھروں اور عوامی انفرا اسٹرکچر میں استعمال کا امکان
ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کو صرف صنعتی عمارتوں تک محدود رکھنے کے بجائے گھروں، عوامی عمارتوں اور دیگر انفرا اسٹرکچر پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اگر بڑے پیمانے پر ایسی کوٹنگز کا استعمال کیا جائے تو گرم موسم میں عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ایئر کنڈیشنرز اور دیگر کولنگ سسٹمز پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بجلی کی طلب میں کمی لانے کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں گرمی کے دوران کولنگ سسٹمز کے باعث بجلی کی کھپت بہت بڑھ جاتی ہے۔
سالانہ 6 لاکھ ٹن پیداوار کا منصوبہ
رپورٹ کے مطابق اس خصوصی پینٹ کی بڑے پیمانے پر تیاری کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے اور سالانہ 6 لاکھ ٹن کوٹنگ تیار کرنے کا ہدف سامنے آیا ہے۔
یہ کوٹنگ چائنا کنسٹرکشن ایکو ڈویلپمنٹ کمپنی اور ہربن انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے۔ محققین کے مطابق اس کی اوسط عمر تقریباً 15 سال تک ہو سکتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ایک بار کوٹنگ کیے جانے کے بعد طویل عرصے تک اس کے کولنگ اثر سے فائدہ اٹھانے کی توقع کی جا رہی ہے۔
تاہم، یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اس پینٹ سے ہر صورت میں ایئر کنڈیشنر کی ضرورت مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ اس کی کارکردگی مقامی موسم، عمارت کے ڈیزائن اور استعمال کی صورتحال پر منحصر ہوگی۔ البتہ اگر یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر مؤثر ثابت ہوتی ہے تو گرم علاقوں میں عمارتوں کی ٹھنڈک اور توانائی کی بچت کے لیے ایک اہم اضافی ذریعہ بن سکتی ہے۔
