ملک کے 34 شہروں اور ریاض میں امتحانی مراکز قائم، صوبوں کے لیے الگ سوالیہ پرچے تیار، مبینہ پرچے کی سوشل میڈیا اطلاعات جعلی قرار
کراچی: میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلوں کے لیے ایم ڈی کیٹ 2026 کا امتحان ملک بھر میں جاری ہے، جس میں ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد امیدوار شریک ہو رہے ہیں۔ داخلہ امتحان کے لیے پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بھی امتحانی مرکز قائم کیا گیا ہے۔
34 شہروں اور ریاض میں امتحانی مراکز
ایم ڈی کیٹ 2026 کا امتحان ملک کے 34 شہروں میں قائم مختلف امتحانی مراکز میں لیا جا رہا ہے، جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی امیدواروں کے لیے ریاض میں بھی امتحانی مرکز بنایا گیا ہے۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے مطابق رواں سال مجموعی طور پر ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد امیدوار میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلے کے لیے منعقد ہونے والے اس امتحان میں حصہ لے رہے ہیں۔
ایم ڈی کیٹ ملک میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلے کے لیے اہم داخلہ امتحان ہے، جس کے نتائج امیدواروں کے طبی تعلیم کے شعبے میں داخلے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امتحان میں امیدواروں کی بڑی تعداد کے پیش نظر مختلف شہروں میں امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں تاکہ طلبہ کو اپنے متعلقہ علاقوں میں امتحان دینے کی سہولت حاصل ہو۔
ہر صوبے کے لیے الگ سوالیہ پرچے
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے مطابق امتحان کے دوران شفافیت برقرار رکھنے کے لیے ہر صوبے کے لیے علیحدہ سوالیہ پرچے تیار کیے گئے ہیں۔
امتحانی انتظامات کے تحت امیدواروں کو مقررہ ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ امتحان میں بڑی تعداد میں طلبہ کی شرکت کے باعث امتحانی مراکز میں نگرانی اور انتظامی امور پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
پی ایم ڈی سی کے مطابق ایم ڈی کیٹ کے انعقاد کا بنیادی مقصد میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم میں داخلے کے خواہش مند امیدواروں کی اہلیت جانچنا ہے، جس کے بعد متعلقہ اداروں کے داخلہ طریقہ کار کے تحت امیدواروں کو میرٹ پر داخلے کے مراحل سے گزرنا ہوگا۔
ایم ڈی کیٹ 2025: صرف 53 فیصد امیدوار کامیاب
جیوینائل کارڈ کی شرط ختم
رواں سال ایم ڈی کیٹ کے حوالے سے ایک اہم تبدیلی بھی سامنے آئی ہے۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے مطابق امتحان میں شرکت کے لیے جیوینائل کارڈ کی لازمی شرط ختم کر دی گئی ہے۔
اس فیصلے کے بعد وہ امیدوار جن کے پاس جیوینائل کارڈ موجود نہیں، وہ بھی دیگر مطلوبہ شرائط پوری ہونے کی صورت میں ایم ڈی کیٹ 2026 میں شرکت کر سکیں گے۔ اس اقدام سے ان طلبہ کو سہولت ملنے کی توقع ہے جو شناختی دستاویز سے متعلق اس شرط کی وجہ سے امتحان میں شرکت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کر سکتے تھے۔
مبینہ پرچے کی اطلاعات کو جعلی قرار دے دیا گیا
دوسری جانب ایم ڈی کیٹ کے امتحانی پرچے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات نے بھی امیدواروں کی توجہ حاصل کی۔ ایس ٹی ایس نے سوشل میڈیا پر ایم ڈی کیٹ کا مبینہ پرچہ جاری ہونے سے متعلق خبروں کو جعلی قرار دیا ہے۔
ایس ٹی ایس کی جانب سے امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے جعلی پرچوں یا گمراہ کن مواد پر اعتماد نہ کریں۔ امیدواروں کو امتحان سے متعلق معلومات کے لیے صرف متعلقہ اور مستند ذرائع سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایم ڈی کیٹ 2026 میں ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد امیدواروں کی شرکت کے باعث امتحان ملک میں میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کے خواہش مند طلبہ کے لیے ایک اہم مرحلہ ہے۔ امتحان کے بعد امیدوار نتائج اور متعلقہ کالجز کے داخلہ مراحل کے مطابق اپنی اگلی تعلیمی منزل کا تعین کریں گے۔
