کراچی کے علاقے سائٹ سپر ہائی وے، احسن آباد میں ایک فلیٹ سے ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی کئی روز پرانی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جن میں ڈاکٹر، ان کی اہلیہ اور 3 بچے شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق لاشیں احسن آباد کے لاکھانی فلیٹس کی ساتویں منزل پر واقع ایک فلیٹ کے کمرے سے برآمد ہوئیں۔ تمام لاشیں کئی روز پرانی معلوم ہوتی ہیں، جبکہ واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاشوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
فلیٹ کا دروازہ اندر سے بند تھا
ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر شیخ کے مطابق فلیٹ کا دروازہ اندر سے بند تھا اور لاشیں ایک کمرے سے ملیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جاں بحق ہونے والا شخص ڈاکٹر اور گھر کا کفیل تھا۔
پولیس حکام کے مطابق پانچوں لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ لاشوں کی شناخت اور موت کی وجوہات جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم سمیت دیگر قانونی کارروائی جاری ہے۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق اہل علاقہ کی جانب سے فلیٹ سے بدبو آنے کی شکایت کے بعد پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچی تھیں، جس کے بعد واقعے کا انکشاف ہوا۔
موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم کے بعد سامنے آئے گی
پولیس کا کہنا ہے کہ موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی معلوم ہوسکے گی۔ حکام نے واقعے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کردی ہیں اور لاشوں کی شناخت سمیت دیگر شواہد بھی جمع کیے جارہے ہیں۔
کراچی، فیکٹری میں لگنے والی آگ پر 8 گھنٹے بعد بھی قابو نہ پایا جاسکا
پولیس نے ابتدائی طور پر شبہ ظاہر کیا ہے کہ ممکنہ طور پر خاندان کے افراد نے خودکشی کی ہو، تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ تحقیقات مکمل ہونے اور فرانزک و پوسٹ مارٹم رپورٹس موصول ہونے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ واضح ہوسکے گی۔
وزیر داخلہ سندھ نے رپورٹ طلب کرلی
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ایس ایس پی ایسٹ سے تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
وزیر داخلہ نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ ابتدائی کارروائی اور تحقیقات سے فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے ایس ایس پی ایسٹ کو اپنی نگرانی میں واقعے کی تفتیش مؤثر اور مربوط انداز میں آگے بڑھانے اور تحقیقات کے ذریعے حتمی نتائج تک پہنچنے کی ہدایت بھی کی۔
پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ موت کی حتمی وجہ سامنے آنے کے لیے پوسٹ مارٹم اور دیگر شواہد کا انتظار کیا جارہا ہے۔
