وسیم اکرم نے بابراعظم کی ٹیسٹ کپتانی لینے کو غلط فیصلہ قرار دے دیا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے بابراعظم کے قومی ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی قبول کرنے کے فیصلے پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے اسے غلط فیصلہ قرار دیا ہے۔ وسیم اکرم کے مطابق بابر اعظم کو ایک مرحلے پر کپتانی سے الگ ہو کر صرف بطور کھلاڑی کھیلنے کا فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔

latest urdu news

وسیم اکرم نے یہ گفتگو مانچسٹر میں سابق پاکستانی کپتان وقار یونس کے ہمراہ ایک چیریٹی فنڈ ریزنگ پروگرام میں شرکت کے موقع پر کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی پر الزام عائد نہیں کرنا چاہتے اور ان کی رائے غلط بھی ہو سکتی ہے، تاہم ان کے خیال میں بابر اعظم کے لیے اس وقت کپتانی قبول کرنا مناسب فیصلہ نہیں تھا۔

وسیم اکرم نے بابر اعظم کے فیصلے پر کیا کہا؟

وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں بابر اعظم کو قومی ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی لینی ہی نہیں چاہیے تھی۔ انہوں نے اسے غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوسرے ٹیسٹ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں بابر اعظم کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے تھا کہ وہ آئندہ صرف بطور کھلاڑی ٹیم کا حصہ رہیں گے۔

سابق کپتان نے اس معاملے پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی فرد کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے مجموعی صورتحال پر بات کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بابر اعظم کے لیے اس مرحلے پر کپتانی کے بجائے اپنی بیٹنگ اور بطور کھلاڑی کردار پر توجہ مرکوز کرنا زیادہ مناسب ہوتا۔

تیسرے ٹیسٹ میں کھلاڑیوں کی تبدیلی کا معاملہ

وسیم اکرم نے تیسرے ٹیسٹ کے ٹاس کے موقع پر پیش آنے والی گفتگو کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق بابر اعظم سے ٹیم میں 7 کھلاڑیوں اور کوچ کی تبدیلی سے متعلق سوال کیا گیا تو بابر نے جواب دیا کہ انہیں اس بارے میں معلوم نہیں۔

وسیم اکرم نے اس جواب پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کپتان کو ہی ٹیم میں ہونے والی اہم تبدیلیوں کا علم نہیں تو پھر کپتان کے کردار اور اختیار کے حوالے سے سوال پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو ٹیم کی قیادت کے حوالے سے غیر معمولی قرار دیا۔

بابراعظم کا واضح مؤقف: تنقید کا جواب نہیں، ساری توجہ صرف کرکٹ پر ہے

لیڈر کو کھلاڑیوں کا ساتھ دینا چاہیے: وسیم اکرم

سابق پاکستانی کپتان نے قیادت اور ٹیم کے درمیان اعتماد کی اہمیت پر بھی بات کی۔ وسیم اکرم کے مطابق اگر کسی ٹیم کا لیڈر یا کپتان اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑا نہ ہو تو کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کے مطابق مکمل کارکردگی دکھانے میں مشکل محسوس کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے نزدیک ایک کپتان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑا ہو اور انہیں اعتماد فراہم کرے۔ وسیم اکرم کے مطابق اگر کھلاڑی کو یہ احساس ہو کہ مشکل وقت میں کپتان اس کا ساتھ نہیں دے گا تو اس کی کارکردگی اور ٹیم کے اندر اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔

بابر اعظم کے کردار پر سابق کپتان کی رائے

وسیم اکرم نے واضح کیا کہ ان کی رائے ذاتی مشاہدے اور کرکٹ کے تجربے پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسرے ٹیسٹ کے بعد بابر اعظم کو کپتانی سے الگ ہونے اور صرف بطور کھلاڑی کھیلنے کا اعلان کرنا چاہیے تھا۔

وسیم اکرم کی یہ رائے ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کرکٹ ٹیم میں قیادت، ٹیم سلیکشن اور کھلاڑیوں کے کردار سے متعلق معاملات زیر بحث رہے ہیں۔ ان کے بیان نے بابر اعظم کی قیادت اور ٹیم میں کپتان کے اختیار سے متعلق بحث کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter