پاکستان کی اوپن کرنسی مارکیٹ میں ایرانی ریال کی مانگ میں ایک بار پھر تیزی دیکھی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں اس کی قدر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کی توقعات نے ایرانی کرنسی کو سہارا فراہم کیا ہے۔
اوپن مارکیٹ میں 10 ملین ایرانی ریال کی قیمت میں حالیہ دنوں کے دوران تقریباً 2 سے 3 ہزار روپے تک اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کے بعد 10 ملین ریال کی مالیت 3 ہزار 500 سے 4 ہزار 500 روپے کے درمیان پہنچ گئی ہے، جس سے سرمایہ کاروں اور کرنسی ڈیلرز کی دلچسپی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ملک بوستان کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں میں پاکستانی خریداروں نے مجموعی طور پر 60 ارب ایرانی ریال خریدے، جن کی مالیت تقریباً 25 کروڑ روپے بنتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تقریباً تین ماہ بعد ایرانی کرنسی کی طلب میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور خریداروں کی بڑی تعداد کم اور متوسط آمدنی والے طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔
ملک بوستان نے مزید بتایا کہ چند ماہ قبل جنگ بندی سے متعلق اعلانات کے بعد بھی ایرانی ریال کی خریداری میں غیر معمولی اضافہ ہوا تھا، جس سے اس کی قیمت میں تیزی آئی۔ تاہم بعد ازاں ایران پر حملوں اور علاقائی کشیدگی کے باعث ریال کی قدر میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی۔
ایران۔امریکا مذاکرات میں پاکستان کا کلیدی کردار برقرار، اگلا دور بھی اسلام آباد میں متوقع
کرنسی ماہرین کے مطابق حالیہ بہتری کے باوجود ایرانی ریال میں سرمایہ کاری اب بھی خطرات سے خالی نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابتدائی سطح پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان حتمی معاہدہ ابھی طے نہیں پایا، اس لیے سرمایہ کاروں کو محتاط حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر خطے میں سیاسی استحکام برقرار رہا اور اقتصادی پابندیوں میں مزید نرمی آئی تو ایرانی کرنسی کی قدر میں مزید بہتری آ سکتی ہے، تاہم کسی بھی نئی کشیدگی کی صورت میں صورتحال دوبارہ تبدیل ہونے کا امکان موجود ہے۔
