پوری زندگی جیل میں رکھ لیں، غلامی قبول نہیں، پارٹی بڑی تحریک کی تیاری کرے، عمران خان

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ چاہے پوری زندگی جیل میں رکھ لیں، غلامی قبول نہیں کروں گا، پارٹی کو بڑی تحریک کی تیاری کا حکم دے دیا۔

latest urdu news

راولپنڈی ، بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے اڈیالہ جیل سے ایک سخت اور جذباتی پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی ٹارچر کرلیں، میں غلامی تسلیم نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ چاہے پوری زندگی جیل میں بھی رکھ لیں، میں نہ جھکوں گا اور نہ بکوں گا، پارٹی بڑی تحریک کی تیاری کرے۔

اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے 3 نکاتی پیغام بھجوایا ہے، انہوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں عام قیدیوں کے بنیادی حقوق بھی نہیں دیے جا رہے، آٹھ ماہ میں صرف ایک بار بچوں سے بات کروائی گئی، جبکہ بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔

علیمہ خان نے یہ بھی بتایا کہ جیل انتظامیہ کتابیں پہنچانے کی اجازت نہیں دیتی اور عمران خان کے ذاتی ڈاکٹروں سے معائنہ نہیں کرایا جا رہا، ان کے مطابق عدالتوں کے احکامات بھی مسلسل نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ جو بھی فرعونیت یا یزیدیت کا نظام ہے، میں اس کے آگے سر نہیں جھکاؤں گا، ان کے مطابق ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو صرف اس لیے قید کیا گیا ہے تاکہ ان پر دباؤ ڈالا جا سکے، مگر وہ کسی بھی حالت میں غلامی قبول نہیں کریں گے۔

علیمہ خان نے کہا کہ سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ عمران خان کسی ڈیل کے تحت باہر آ رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عوام کا غصہ کم کرنے کے لیے یہ سازشیں کی جا رہی ہیں، انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے پارٹی کارکنوں کے لیے پیغام دیا ہے کہ یہ جماعت نظریے کی بنیاد پر قائم ہے، الیکٹیبلز کی نہیں، جو لوگ اس نظریے کے ساتھ نہیں، ان کی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔

عمران خان نے واضح کیا ہے کہ اب اسلام آباد کی طرف مارچ نہیں ہوگا بلکہ پورے پاکستان میں تحریک چلے گی۔ ججز کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ القادر کیس تین ماہ سے زیر التوا ہے اور دیگر مقدمات کی بھی سماعت نہیں ہو رہی، حالانکہ ججز نے وعدہ کیا تھا۔

علیمہ خان نے اعلان کیا کہ اب تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی عدالتوں میں جاکر ججز کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں گے، لاہور میں پنجاب اسمبلی کے تمام ارکان ہائی کورٹ جائیں گے جبکہ اسلام آباد میں ایم این ایز اور خیبرپختونخوا کے ایم پی ایز اسلام آباد ہائی کورٹ کا رخ کریں گے تاکہ عدلیہ کی حمایت کی جا سکے۔

یاد رہے کہ عمران خان گزشتہ کئی ماہ سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور اس دوران ان کے متعدد مقدمات التوا کا شکار ہیں، ان کی جماعت پہلے ہی ان کی رہائی کے لیے احتجاج اور قانونی چارہ جوئی میں مصروف ہے، اور اب پارٹی کو ملک گیر تحریک کے لیے متحرک کرنے کا عندیہ دے دیا گیا ہے۔

اسٹاک مارکیٹ کی غیر معمولی کارکردگی پر جہاں معاشی حلقے خوشی کا اظہار کر رہے ہیں، وہیں گورنر سندھ نے عمران خان سے درخواست کی کہ وہ 100 انڈیکس کی تاریخی سطح عبور کرنے پر جیل سے قوم کو مبارکباد دیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter