جھنگ میں بیہوشی کی حالت میں اسپتال لائی جانے والی اور بعد ازاں دورانِ علاج انتقال کر جانے والی 18 سالہ لڑکی کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تاحال لڑکی کے جسم پر تشدد یا جنسی زیادتی کے کوئی واضح شواہد نہیں ملے، تاہم موت کی حتمی وجہ کا تعین ابھی باقی ہے اور اس مقصد کے لیے مختلف نمونے فرانزک تجزیے کے لیے لاہور بھجوا دیے گئے ہیں۔
یہ واقعہ گزشتہ دنوں اس وقت منظرِ عام پر آیا تھا جب چند افراد ایک نوجوان لڑکی کو بے ہوشی کی حالت میں جھنگ کے ایک نجی اسپتال میں چھوڑ کر وہاں سے چلے گئے تھے۔ بعد ازاں لڑکی کی حالت تشویشناک ہونے پر اسے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ دورانِ علاج دم توڑ گئی۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کیا سامنے آیا؟
اسپتال انتظامیہ کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں لڑکی کے جسم پر تشدد یا جنسی زیادتی کے آثار نہیں پائے گئے۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ متاثرہ لڑکی شوگر کی مریضہ تھی اور گزشتہ تقریباً پانچ برس سے انسولین استعمال کر رہی تھی۔
حکام کے مطابق جب لڑکی کو اسپتال لایا گیا تو وہ مکمل طور پر بے ہوش تھی اور اس کی حالت انتہائی نازک تھی۔ طبی ماہرین نے اسے بچانے کی کوشش کی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکی۔
موت کی حتمی وجہ کا تعین ابھی باقی
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی طبی معائنے کے باوجود موت کی حتمی وجہ فی الحال واضح نہیں ہو سکی۔ اسی لیے جسم سے حاصل کیے گئے مختلف نمونے فرانزک لیبارٹری لاہور بھجوا دیے گئے ہیں، جہاں جدید سائنسی تجزیے کے بعد موت کی اصل وجہ کا تعین کیا جائے گا۔
طبی ماہرین کے مطابق بعض اوقات زہریلے مادوں، ادویات کے ردعمل یا جسمانی پیچیدگیوں کا پتہ صرف فرانزک تجزیے سے ہی چل سکتا ہے، اس لیے حتمی رپورٹ کا انتظار ضروری ہے۔
جھنگ میں بیہوش لڑکی کو اسپتال چھوڑ کر فرار ہونے والے تین ملزمان گرفتار
والد کا اغوا اور زیادتی کا الزام
متوفیہ کے والد نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کی بیٹی کو اغوا کرنے کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اسی الزام کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔
تاہم ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جنسی زیادتی کے شواہد سامنے نہ آنے کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
چار ملزمان پولیس کی حراست میں
پولیس حکام کے مطابق لڑکی کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال چھوڑ کر جانے والے چار افراد اس وقت حراست میں ہیں۔ ان سے مختلف پہلوؤں پر تفتیش جاری ہے جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل ڈیٹا اور دیگر شواہد بھی اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
ڈی پی او جھنگ کے مطابق کیس کے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور حتمی فرانزک رپورٹ موصول ہونے کے بعد مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
فرانزک رپورٹ کے بعد اہم پیش رفت متوقع
قانونی اور طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کیس میں فرانزک رپورٹ انتہائی اہمیت کی حامل ہوگی، کیونکہ اسی کی بنیاد پر موت کی اصل وجہ، ممکنہ مجرمانہ عناصر اور آئندہ تفتیش کا رخ متعین ہوگا۔ متاثرہ خاندان سمیت عوام بھی اس رپورٹ کے منتظر ہیں تاکہ واقعے کی مکمل حقیقت سامنے آسکے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔
