شادی کے بعد الگ رہائش ضروری ہے، مریم نفیس کا خاندانی نظام پر اہم بیان

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستانی اداکارہ مریم نفیس نے شادی کے بعد بیٹوں اور ان کی اہلیہ کو الگ رہنے دینے کے حوالے سے اہم گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دینِ اسلام بھی شادی شدہ بچوں کو الگ رہائش اور نجی زندگی دینے کی تلقین کرتا ہے۔ ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں خاندانی نظام، ساس بہو تعلقات اور مشترکہ خاندانی زندگی سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

latest urdu news

مارننگ شو میں کھل کر گفتگو

مریم نفیس نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی چینل کے مارننگ شو میں شرکت کی جہاں مختلف سماجی موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ اسی دوران شادی کے بعد بیٹوں کی ماؤں کے رویوں اور گھریلو ماحول سے متعلق سوال پر اداکارہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ شادی کے بعد ہر جوڑے کو اپنی نجی زندگی، آزادی اور ذہنی سکون کی ضرورت ہوتی ہے، اسی لیے بہتر یہی ہے کہ نئی شادی شدہ زندگی کا آغاز الگ ماحول میں کیا جائے۔ ان کے مطابق یہ صرف سماجی ضرورت نہیں بلکہ مذہبی اعتبار سے بھی ایک مثبت طرزِ عمل سمجھا جاتا ہے۔

“ہر خاندان کو اپنی پرائیویسی چاہیے”

اداکارہ نے گفتگو کے دوران کہا کہ ہر خاندان کو اپنی پرائیویسی اور ذاتی جگہ درکار ہوتی ہے۔ ان کے مطابق مشترکہ خاندانی نظام میں بعض اوقات چھوٹے چھوٹے معاملات بھی تنازعات کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جس کی وجہ سے رشتوں میں دوریاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔

مریم نفیس نے کہا کہ ان کا بیٹا عیسیٰ ابھی دو سال کا بھی نہیں ہوا، لیکن وہ پہلے ہی یہ سوچ رکھتی ہیں کہ جب وہ بڑا ہو کر شادی کرے گا تو اسے الگ رہنے کی آزادی دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے بیٹے یا اس کی اہلیہ پر کسی قسم کا اضافی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہو کا بنیادی فرض صرف شوہر اور اپنے گھر کی ذمہ داری نبھانا ہے، جبکہ ساس سسر کی مکمل دیکھ بھال کو لازمی ذمہ داری سمجھنا درست نہیں۔

ڈراموں کے سیٹ پر سب سے زیادہ نمازیں ادا کی جاتی ہیں ، اداکارہ مریم نفیس

وسائل کم ہوں تو ذہنی اسپیس دی جائے

اداکارہ نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ہر خاندان کے لیے الگ گھر کا انتظام کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے حالات میں، ان کے مطابق، سسرال والوں کو چاہیے کہ نئی آنے والی لڑکی کو گھر میں مناسب ذہنی اور ذاتی اسپیس دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر الگ رہائش ممکن نہ ہو تو کم از کم نئی دلہن کو اس کے کمرے، روزمرہ معاملات اور کچن کے حوالے سے آزادی اور اعتماد دیا جانا چاہیے تاکہ وہ خود کو اجنبی محسوس نہ کرے۔

“یہی سوچ خرابیاں پیدا کرتی ہے”

مریم نفیس کے مطابق مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب بعض ساسیں یہ سوچ لیتی ہیں کہ گھر میں صرف انہی کا طریقہ درست ہے اور نئی آنے والی لڑکی کسی قسم کی تبدیلی نہیں لا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں ہر نئی بات غلط ہو، بلکہ ممکن ہے نئی نسل کے طریقے بعض معاملات میں زیادہ بہتر ثابت ہوں۔ ان کے مطابق برداشت، احترام اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا رویہ ہی خوشگوار خاندانی زندگی کی بنیاد بنتا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں مشترکہ خاندانی نظام ایک طویل عرصے سے رائج ہے، تاہم بدلتے معاشرتی حالات، مہنگائی، نجی زندگی کی اہمیت اور نئی نسل کی ترجیحات کے باعث اب الگ رہائش کے تصور پر زیادہ گفتگو ہونے لگی ہے۔ مریم نفیس کا بیان بھی اسی جاری سماجی بحث کا حصہ بن گیا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter