ٹنڈوالہ یار کے علاقے پیر جی کالونی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد پولیس نے بچے کے والدین کو حراست میں لے کر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
پیر جی کالونی میں افسوسناک واقعہ
سندھ کے ضلع ٹنڈوالہ یار میں چار سالہ بچے کو چھری کے وار کر کے قتل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ پیر جی کالونی میں پیش آیا، جہاں بچے کی لاش ملنے کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے۔
پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر ضروری قانونی کارروائی شروع کر دی، جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد بھی اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ واقعے کی اصل وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
والدین کو حراست میں لے لیا گیا
پولیس حکام کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی بچے کے قتل کے شبہے میں والد اور والدہ دونوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ تفتیش کے دوران دونوں سے الگ الگ پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ واقعے کی حقیقت سامنے آ سکے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق والدہ نے الزام عائد کیا ہے کہ بچے کا والد ملاقات کے لیے آیا تھا اور دونوں کے درمیان جھگڑے کے دوران اس نے مبینہ طور پر بچے کو چھری کے وار کر کے قتل کر دیا۔
والد نے الزامات مسترد کر دیے
دوسری جانب بچے کے والد نے اپنے بیٹے کو قتل کرنے کے الزام کی تردید کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے، اس لیے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے قبل تمام شواہد، فرانزک رپورٹس اور گواہوں کے بیانات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق تفتیش ہر ممکن زاویے سے جاری ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واقعے کی اصل حقیقت سامنے آ سکے گی۔
پولیس کی تحقیقات جاری
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور کسی بھی امکان کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ شواہد، جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والی معلومات اور متعلقہ افراد کے بیانات کی روشنی میں قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک کسی بھی شخص کو ذمہ دار قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ واقعے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے پر عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔
