نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کا کہنا ہے کہ وہ یہ جاننے کے لیے قانونی مشاورت کر رہے ہیں کہ آیا ان کے پاس اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی ممکنہ گرفتاری سے متعلق کوئی قانونی اختیار موجود ہے یا نہیں۔
نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں مؤقف
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ اپنے قانونی اختیارات کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اگر اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آتے ہیں تو کیا نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کو ان کی گرفتاری کی ہدایت دی جا سکتی ہے یا نہیں۔
ممدانی نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے نزدیک نیتن یاہو کو جنگی جرائم کے الزامات کا سامنا ہے اور ان کا مؤقف ہے کہ انہیں دی ہیگ میں انصاف کے عمل کا سامنا کرنا چاہیے۔
آئی سی سی کے وارنٹ کا پس منظر
میئر ظہران ممدانی نے اپنی گفتگو میں انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) کی جانب سے نیتن یاہو کے خلاف جاری کیے گئے گرفتاری کے وارنٹ کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی نئے قانون کی تشکیل نہیں کرنا چاہتے بلکہ صرف اس حد تک کارروائی کریں گے جس کی اجازت انہیں موجودہ قوانین دیتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ نیویارک سٹی انتظامیہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی کوئی بھی فیصلہ کرے گی اور قانونی مشاورت اسی مقصد کے لیے جاری ہے۔
اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت متوقع
اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی رواں سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آمد متوقع ہے۔ اسی تناظر میں ان کی ممکنہ آمد اور آئی سی سی کے وارنٹ پر عمل درآمد سے متعلق قانونی اور سیاسی بحث دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے۔
ٹرمپ کا نیتن یاہو سے متعلق بیان: “وہ جانتے ہیں کہ اصل اختیار کس کے پاس ہے”
بطور میئر، ظہران ممدانی نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے انتظامی نگران ہیں، تاہم کسی غیر ملکی سربراہِ حکومت کی گرفتاری سے متعلق اختیارات امریکی وفاقی قوانین، بین الاقوامی قانون اور سفارتی استثنیٰ سمیت متعدد قانونی پہلوؤں سے جڑے ہوئے ہیں، جن پر ماہرین مختلف آراء رکھتے ہیں۔
انتخابی مہم کے دوران بھی دیا تھا بیان
یاد رہے کہ گزشتہ سال میئر کے انتخابی مہم کے دوران بھی ظہران ممدانی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئے تو وہ آئی سی سی کے وارنٹ کی روشنی میں ان کی گرفتاری کے لیے پولیس کو ہدایات دینے کی کوشش کریں گے۔
اس وقت بھی ان کے اس بیان پر امریکی سیاسی حلقوں اور بین الاقوامی میڈیا میں خاصی بحث دیکھنے میں آئی تھی۔
نیتن یاہو کا ردعمل
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے ایک حالیہ ریڈیو انٹرویو میں ظہران ممدانی کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسی دھمکیوں کی کوئی فکر نہیں۔
نیتن یاہو نے الزام عائد کیا کہ ممدانی حماس کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایک جمہوری ریاست ہے جو امریکی اقدار کے ساتھ کھڑی ہے، جبکہ ان کے بقول اسرائیل پر تنقید کرنے والوں کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ وہ کس کی حمایت اور کس کی مخالفت کر رہے ہیں۔
قانونی اور سفارتی صورتحال
اگرچہ آئی سی سی کی جانب سے نیتن یاہو کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کے بعد اس معاملے پر بین الاقوامی سطح پر بحث جاری ہے، تاہم کسی بھی ممکنہ کارروائی کا انحصار متعلقہ ملک کے قوانین، عدالتی فیصلوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں پر ہوگا۔ اس وقت نیویارک میں نیتن یاہو کی ممکنہ آمد اور اس حوالے سے کسی بھی قانونی اقدام کے بارے میں کوئی باضابطہ فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
