مالی سال 2025-26 کے ابتدائی 11 ماہ کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پیٹرولیم لیوی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور اسٹیٹ بینک کے منافع نے وفاقی حکومت کی غیر ٹیکس آمدن میں نمایاں کردار ادا کیا، جس سے بجٹ خسارہ مقررہ ہدف کے اندر رکھنے میں مدد ملی۔
پیٹرولیم اور کلائمیٹ لیوی سے نمایاں وصولیاں
وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کے پہلے گیارہ ماہ (جولائی تا مئی) کے دوران پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی مد میں مجموعی طور پر ایک ہزار 478 ارب روپے سے زائد وصول کیے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان محصولات نے وفاقی مالیاتی خسارے کو محدود رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
دستاویزات کے مطابق ان گیارہ ماہ کے دوران وفاقی بجٹ خسارہ 33.4 کھرب روپے، یعنی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 2.6 فیصد کے برابر رہا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ غیر ٹیکس آمدن میں اضافے کی بدولت مالیاتی اہداف کے حصول میں پیش رفت ممکن ہوئی۔
آئی ایم ایف پروگرام اور صوبوں کا مالیاتی سرپلس
حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان طے شدہ معاہدے کے تحت صوبوں نے مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ میں 13.1 کھرب روپے کا سرپلس ریونیو پیدا کیا۔ اس کے نتیجے میں مجموعی مالیاتی خسارہ کم ہو کر 20.3 کھرب روپے یا جی ڈی پی کے 1.6 فیصد تک محدود رہا۔
حکومت نے پورے مالی سال کے لیے مجموعی مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 3 فیصد، یعنی 37.7 کھرب روپے تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا تھا۔ یہ ہدف گزشتہ مالی سال کے نظرثانی شدہ تخمینوں کے مطابق طے کیا گیا، جبکہ ابتدائی اندازے میں خسارہ جی ڈی پی کے 3.9 فیصد، یعنی 50.3 کھرب روپے تک رہنے کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔
غیر ٹیکس آمدن میں اسٹیٹ بینک کا منافع سرفہرست
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ میں حکومت کو غیر ٹیکس آمدن کی تین بڑی مدات سے مجموعی طور پر 48.2 کھرب روپے حاصل ہوئے، جبکہ پورے سال کے لیے ان ذرائع سے 51.4 کھرب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر کلائمیٹ سپورٹ لیوی 5 روپے فی لیٹر کر دی، پیٹرولیم لیوی میں کمی
ان مدات میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع کی صورت میں 24 کھرب 28 ارب روپے وصول ہوئے، جو سب سے بڑی غیر ٹیکس آمدن رہی۔ اسی عرصے میں پیٹرولیم لیوی سے 14 کھرب 32 ارب روپے جبکہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے 45 ارب 96 کروڑ 80 لاکھ روپے حاصل کیے گئے۔
ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں اور سود کی ادائیگیاں
اعداد و شمار کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ میں 112 کھرب 28 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کیں۔ اسی دوران قرضوں پر سود کی ادائیگی 61 کھرب 63 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو وفاقی اخراجات کا ایک بڑا حصہ رہی۔
حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے مختص تمام فنڈز مکمل طور پر استعمال کر لیے گئے۔
حتمی مالیاتی اعداد و شمار کا انتظار
وزارت خزانہ نے تاحال 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال 2025-26 کے مکمل اور تطبیق شدہ مالیاتی اعداد و شمار جاری نہیں کیے۔ حکام کے مطابق حتمی مالیاتی رپورٹ آئندہ چند ہفتوں میں جاری کی جائے گی، جس کے بعد سرکاری آمدن، اخراجات اور بجٹ خسارے کی مکمل تصویر سامنے آئے گی۔
ماہرین کے مطابق پیٹرولیم لیوی اور دیگر غیر ٹیکس محصولات سے حاصل ہونے والی آمدن نے حکومت کو مالیاتی اہداف کے قریب رہنے میں مدد ضرور دی، تاہم قرضوں پر سود کی بلند ادائیگیاں اور مالیاتی نظم و ضبط آئندہ بھی معیشت کے لیے اہم چیلنجز رہیں گے۔
