شہر کے علاقے ویلنشیا ٹاؤن میں ایک گھر سے خاتون اور ان کے تین بچوں کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد پولیس نے گھر کے سربراہ کو حراست میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پولیس کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت 40 سالہ علینہ، 16 سالہ ریحان، 11 سالہ ارشیہ اور 9 سالہ ارسل کے نام سے ہوئی ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق ابتدائی شواہد سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ چاروں افراد کو زہر دے کر قتل کیا گیا، تاہم حتمی وجہ کا تعین پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹس آنے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی کرائم سین یونٹ اور فرانزک ماہرین موقع پر پہنچ گئے اور شواہد اکٹھے کیے، جبکہ لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے مردہ خانے منتقل کر دیا گیا۔
پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے دوران گھر کے سربراہ ناصر ڈوگر کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ناصر ڈوگر چند روز قبل بیرونِ ملک سے پاکستان واپس آیا تھا، اور اس کے بیانات میں تضاد پائے جانے کے باعث اسے تفتیش کے لیے گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور پوسٹ مارٹم سمیت فرانزک رپورٹ کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
