افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے، حافظ نعیم الرحمان کا طالبان حکومت سے شکوہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امیر جماعت اسلامی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے حل کے لیے مذاکرات، قبائلی جرگے اور علاقائی ممالک کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے عوام کو سیاسی اختلافات کی قیمت نہیں چکانی چاہیے۔

latest urdu news

افغان حکومت سے تحفظات کا اظہار

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے افغانستان کی عبوری طالبان حکومت سے شکوہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اور اسے روکنا افغان حکام کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال دونوں برادر ممالک کے تعلقات کے لیے نقصان دہ ہے اور اسے سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام "جرگہ” میں گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور باہمی اعتماد کی بحالی میں ہے۔

مذاکرات کو ہر صورت جاری رکھا جائے

انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان، مذہبی علما اور دونوں ممالک کی قیادت کو مل بیٹھ کر مسائل کے حل کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر ایک دور کے مذاکرات کامیاب نہ ہوں تو دوسرے دور کا آغاز کیا جانا چاہیے، کیونکہ ایسے پیچیدہ مسائل کا پائیدار حل صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر علما کی مختلف تنظیمیں بھی موجود ہیں، جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد سازی اور مصالحتی عمل میں مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں۔

چین، روس اور ترکیہ کے کردار کی تجویز

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات معمول پر لانے کے لیے چین اور روس پہلے ہی مختلف سطحوں پر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ ترکیہ بھی اس عمل میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق تمام متعلقہ فریقوں کو مشترکہ کوششوں کے ذریعے مذاکرات کا ماحول پیدا کرنا چاہیے تاکہ خطے میں امن اور استحکام کو فروغ مل سکے۔

پٹرولیم قیمتوں میں معمولی کمی مسترد، حافظ نعیم کا ملک گیر احتجاج کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ اگر قبائلی عمائدین کو مناسب نمائندگی دی جائے تو ایک وسیع یا "گریٹر جرگہ” تشکیل دیا جا سکتا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا بحال کرنے اور مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

عوام کو اختلافات کی قیمت نہیں چکانی چاہیے

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام نے گزشتہ تقریباً 50 برسوں کے دوران ایک دوسرے کے مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے۔ ان کے بقول اختلافات حکومتوں، پالیسیوں یا ریاستی اداروں کے درمیان ہو سکتے ہیں، لیکن اس کا اثر عام شہریوں پر نہیں پڑنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مختلف ادوار میں افغان شہریوں کو پناہ دی، کاروباری مواقع فراہم کیے اور ہر ممکن تعاون کیا، اس لیے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تاریخی تعلقات کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔

افغان طالبان سے اپیل

اپنی گفتگو کے دوران حافظ نعیم الرحمان نے افغان طالبان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے مفاد میں یہی ہے کہ سرحدی کشیدگی، بداعتمادی اور سیکیورٹی خدشات کو مذاکرات اور تعاون کے ذریعے حل کیا جائے۔

انہوں نے حکومت پاکستان کو بھی مشورہ دیا کہ بارڈر ٹریڈ سمیت دیگر دوطرفہ امور پر مسلسل بات چیت جاری رکھی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ماہرین اور متعلقہ افراد موجود ہیں جو سرحدی تجارت اور دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے مؤثر حکمت عملی مرتب کر سکتے ہیں، اور اگر حکومت چاہے تو جماعت اسلامی بھی اس سلسلے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter