قلعہ عبداللہ میں شادی کی تقریب سوگ میں بدل گئی، ہوائی فائرنگ سے 2 نوجوان جاں بحق

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

گلستان میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد ملزم کی تلاش جاری، پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

latest urdu news

بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں شادی کی ایک تقریب اس وقت المناک سانحے میں تبدیل ہو گئی جب ہوائی فائرنگ کی زد میں آ کر دو نوجوان جان کی بازی ہار گئے۔ واقعے نے علاقے میں غم و افسوس کی فضا پیدا کر دی ہے، جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ رات قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان میں پیش آیا، جہاں شادی کی تقریب جاری تھی۔ تقریب کے دوران کی جانے والی ہوائی فائرنگ اچانک ایک جان لیوا حادثے میں تبدیل ہو گئی اور دو نوجوان گولیوں کی زد میں آ کر شدید زخمی ہو گئے۔

دو نوجوان جانبر نہ ہو سکے

پولیس کے مطابق فائرنگ سے زخمی ہونے والے دونوں نوجوانوں کو طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ واقعے کے بعد شادی کی خوشیاں ماتم میں بدل گئیں اور اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق گولیاں ہوائی فائرنگ کے دوران چلائی گئیں، تاہم واقعے کی مکمل نوعیت اور ذمہ دار افراد کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

ملزم فرار، تلاش جاری

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد مبینہ ملزم موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں شروع کر دی ہیں اور اس کی تلاش جاری ہے۔

حکام کے مطابق واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور شواہد اکٹھے کرکے مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

راولپنڈی: شادی کے موقع پر ہوائی فائرنگ کرنے والی دلہن گرفتار، دلہا فرار

ہوائی فائرنگ: ایک خطرناک روایت

ماہرین اور سماجی حلقے طویل عرصے سے شادیوں اور دیگر تقریبات میں ہوائی فائرنگ کے رجحان کو ایک سنگین سماجی مسئلہ قرار دیتے آ رہے ہیں۔ ہر سال ملک کے مختلف حصوں میں اس طرح کے واقعات کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں اور متعدد افراد زخمی بھی ہوتے ہیں۔

قانونی طور پر ہوائی فائرنگ ایک قابلِ سزا جرم ہے، تاہم اس کے باوجود بعض علاقوں میں یہ روایت اب بھی جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی آگاہی، سخت قانونی کارروائی اور سماجی رویوں میں تبدیلی کے ذریعے ہی ایسے حادثات کی روک تھام ممکن ہے۔

تحقیقات جاری

پولیس حکام کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ذمہ دار شخص یا افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ حکام نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ شادیوں اور دیگر تقریبات میں ہوائی فائرنگ سے گریز کریں تاکہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ چند لمحوں کی غیر ذمہ دارانہ حرکت ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن سکتی ہے اور خوشیوں کے مواقع کو سانحے میں بدل سکتی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter