پاک فوج اور ’’معرکۂ حق‘‘ سے متعلق متنازع بیان، این سی سی آئی اے نے نورین نیازی کو طلب کر لیا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی نے عمران خان کی بہن نورین نیازی کو سوشل میڈیا پر مبینہ متنازع مواد کی تشہیر سے متعلق تحقیقات کے لیے طلب کر لیا، جبکہ ان کے حالیہ بیانات پر سیاسی بحث بھی جاری ہے۔

latest urdu news

نورین نیازی کو طلبی کا نوٹس جاری

نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی کو طلبی کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔

نوٹس کے مطابق نورین نیازی کو 20 جولائی کو دوپہر 12 بجے اسلام آباد میں ادارے کے دفتر میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ طور پر جھوٹے اور تضحیک آمیز بیانات کی تشہیر کے حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ادارے کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر مقررہ تاریخ پر پیش نہ ہوئیں تو اسے اس بات کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کے پاس اپنے دفاع میں پیش کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے، تاہم قانونی کارروائی متعلقہ قوانین کے مطابق آگے بڑھائی جائے گی۔

متنازع بیان پر تحقیقات

یہ پیش رفت نورین نیازی کے اس حالیہ بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے ’’معرکۂ حق‘‘ اور پاک فوج سے متعلق متنازع دعوے کیے تھے۔

وائرل ہونے والی ویڈیو میں نورین نیازی نے دعویٰ کیا تھا کہ ’’معرکۂ حق‘‘ افواجِ پاکستان اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے مزید مختلف سیاسی اور بین الاقوامی معاملات سے متعلق بھی متعدد دعوے کیے، جن میں اسرائیل، امریکا اور ابراہم معاہدوں (Abraham Accords) کا ذکر شامل تھا۔

مومنہ اقبال کی شکایت پر این سی سی آئی اے متحرک، سیاسی شخصیت اور اہلیہ طلب

دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی

نورین نیازی کی جانب سے کیے گئے ان دعوؤں کے حق میں کسی سرکاری ادارے یا آزاد اور معتبر ذریعے سے کوئی ثبوت یا تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ متعلقہ حکام نے بھی ان دعوؤں کی توثیق نہیں کی۔

اسی وجہ سے ان بیانات کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں مختلف ردعمل دیکھنے میں آیا، جبکہ معاملہ تحقیقات کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

این سی سی آئی اے کا مؤقف

این سی سی آئی اے کے مطابق تحقیقات کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے مواد میں ملکی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں۔ ادارے نے واضح کیا ہے کہ طلبی کا نوٹس جاری کرنا قانونی کارروائی کا حصہ ہے اور معاملے کا فیصلہ دستیاب شواہد اور تحقیقات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

قانونی عمل جاری

فی الحال نورین نیازی کی جانب سے طلبی کے نوٹس پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس معاملے میں آئندہ پیش رفت کا انحصار ان کی پیشی، تحقیقات کے نتائج اور متعلقہ قانونی کارروائی پر ہوگا۔

قانونی ماہرین کے مطابق ایسے معاملات میں حتمی رائے یا ذمہ داری کا تعین صرف تحقیقات کی تکمیل اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے، اس لیے معاملہ اس وقت تفتیشی مرحلے میں ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter