مون سون کے دوران تیز سمندری لہروں کے باعث کلفٹن کے ساحل پر بڑی تعداد میں سیپیاں آ گئی ہیں، تاہم ماہرین نے سمندری آلودگی کے پیش نظر انہیں کھانے سے احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
کلفٹن ساحل پر سیپیوں کی بڑی تعداد
کراچی کے معروف کلفٹن ساحل پر مون سون کے موسم میں بڑی تعداد میں سیپیاں نمودار ہونے کا منظر دیکھنے میں آیا ہے، جس نے ساحل پر آنے والے شہریوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔
ماہرین کے مطابق مون سون کے دوران سمندر میں لہروں کی شدت بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں سمندر کی تہہ میں موجود مختلف اقسام کی سیپیاں اور دیگر سمندری جاندار ساحل تک آ جاتے ہیں۔ یہ ایک قدرتی عمل ہے جو ہر سال بارشوں کے موسم میں کسی نہ کسی حد تک دیکھنے میں آتا ہے۔
یہ سیپیاں کون سی ہیں؟
ورلڈ وائلڈ فنڈ (WWF) پاکستان کے تکنیکی مشیر معظم خان کے مطابق کلفٹن کے ساحل پر آنے والی ان سیپیوں کو بلڈ کلیم (Blood Clam) کہا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان سیپیوں کا رنگ سرخ ہوتا ہے، جس کی وجہ ان کے جسم میں موجود ہیموگلوبن ہے۔ یہی خصوصیت انہیں دیگر اقسام کی سیپیوں سے منفرد بناتی ہے۔
ماہرین کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک، خصوصاً مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا کے کئی علاقوں میں بلڈ کلیم کو ایک معروف سمندری غذا کے طور پر پسند کیا جاتا ہے۔
ماہرین کی شہریوں کو اہم ہدایت
معظم خان نے خبردار کیا کہ اگرچہ دنیا کے کئی ممالک میں یہ سیپیاں شوق سے کھائی جاتی ہیں، لیکن کراچی کے ساحلی علاقوں میں موجود سمندری آلودگی کے باعث ان کا استعمال صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ ساحل پر ملنے والی سیپیوں کو کھانے سے گریز کریں، کیونکہ آلودہ پانی میں رہنے والی سیپیاں نقصان دہ جراثیم، بھاری دھاتوں یا دیگر آلودہ مادوں کو اپنے اندر جذب کر سکتی ہیں، جو انسانی صحت کے لیے مضر ثابت ہو سکتے ہیں۔
سمندری آلودگی پر تشویش
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے تکنیکی مشیر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ سیپیوں کے ساتھ بڑی مقدار میں پلاسٹک، کچرا اور دیگر فضلہ بھی ساحل پر آ رہا ہے، جس سے تعفن پیدا ہونے کے ساتھ سمندری ماحول بھی متاثر ہو رہا ہے۔
ان کے مطابق انسانی سرگرمیوں، صنعتی فضلے اور پلاسٹک کی بڑھتی ہوئی آلودگی کے باعث کراچی کا سمندر بتدریج اپنی قدرتی حیاتیاتی تنوع (بایو ڈائیورسٹی) سے محروم ہوتا جا رہا ہے، جو سمندری حیات اور ماحولیات کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔
ماحولیات کے تحفظ کی ضرورت
ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندری آلودگی پر قابو پانے کے لیے شہریوں، صنعتوں اور متعلقہ اداروں کو مشترکہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ ساحلوں پر کچرا پھینکنے سے گریز، پلاسٹک کے استعمال میں کمی اور سمندر میں آلودہ پانی کے اخراج کو روکنا ایسے اقدامات ہیں جو نہ صرف سمندری حیات کے تحفظ میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ عوامی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔
کلفٹن ساحل پر سیپیوں کی بڑی تعداد ایک قدرتی موسمی مظہر ضرور ہے، تاہم ماہرین اس موقع پر شہریوں کو احتیاط، صفائی اور ماحول دوست رویے اختیار کرنے کی تلقین کر رہے ہیں
